RSS

Category Archives: Uncategorized

Manto’s Ghalib

This post appeared on BBC Urdu on the 145th death anniversary of Ghalib, He died on 15th February, 1869.

“from Wikipedia: Ghalib (Urdu: غاؔلب‎; Hindi: ग़ालिब) born Mirza Asadullah Beg Khan (Urdu: مرزا اسد اللہ بیگ خان; Hindi: मिर्ज़ा असदुल्लाह् बेग़ ख़ान), on 27 December 1797 – died 15 February 1869),”

I thought to bring it here on my blog and translate in English for my Urdu Lovers.

غالب منٹو کی طوائف کی روشنی میں

Ghalib in the light of Manto’s nautch girl.

by Zafar Syed, on BBC Urdu.

مرزا غالبتصویر کے کاپی رائٹGHALIB ACADEMY
Ghalib’s poetry is such that any one from any walk of life is able to find a couplet that relates to his station. The same is true for his life. So the film makers who made films on him saw themselves in his life. The idea of making a film on Ghalib occurred first to Saadat Hasan Manto. It was at a time in 1941 when he was not in films and was working in All India Radio.

غالب کی شاعری ایسی ہے کہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے سے تعلق رکھنے والا شخص اس سے اپنے مطلب کا کوئی نہ کوئی شعر نکال ہی لیتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی بات ان کی زندگی پر بھی صادق آتی ہے، چنانچہ ان پر جو فلمیں اور ڈرامے بنے ان کے بنانے والوں نے غالب کی زندگی میں اپنا ہی رنگ دیکھا۔

غالب پر فلم بنانے کا خیال سب سے پہلے سعادت حسن منٹو کو آیا۔ یہ بات ہے 1941 کی جب وہ ان دنوں فلمی دنیا سے وابستہ نہیں ہوئے تھے بلکہ دہلی میں آل انڈیا ریڈیو میں کام کر رہے تھے۔

In a letter to Ahmad Nadim Qasmi he writes: “I am busy now a days writing a film story about Ghalib. I am reading a lot of rubbish. I have ordered all the books, not one is of any use. I do not know how these people writing biography of Ghalib write it like a joke! I have managed to save some material and still hope to save some more.”

وہ احمد ندیم قاسمی کو ایک خط میں لکھتے ہیں:

‘میں آج کل غالب پر فلمی افسانہ لکھنے کے سلسلے میں بہت مصروف ہوں۔ خدا جانے کیا کیا خرافات پڑھ رہا ہوں۔ سب کتابیں منگوا لی ہیں۔ کام کی ایک بھی نہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے سوانح نگارسوانح لکھتے ہیں یا لطیفے۔۔۔ کچھ مواد میں نے جمع کر لیا ہے اور کچھ ابھی جمع کرنا ہے۔’

What was it that Manto searched for in the life of Ghalib but could not find it.

Manto was an experienced writer and knew that in order to have a great story one must find some conflict or aberration in the life of the subject. But what, that was the question.

Manto stumbled upon the phrase ‘sitam pesha domni’ (dancing girl that specialised in playing hard to get) while browsing through the rubbish material in the books. In street language one might surmise that this was the gem he was looking for and it was easy for him to weave the whole story around it.

وہ کون سی بات تھی جو منٹو غالب کی سوانح میں ڈھونڈنا چاہتے تھے لیکن وہ انھیں ملتی نہیں تھی؟

منٹو بڑے فن کار تھے وہ جانتے تھے کہ فکشن کسی بڑی آویزش یا کنفلکٹ کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ لیکن غالب کی زندگی میں کیا آویزش دکھائی جائے؟

غالب کے بارے میں سوانح نگاروں کی ‘خرافات’ پڑھتے پڑھتے منٹو کو کہیں ‘ستم پیشہ ڈومنی’ کا فقرہ ملا۔ قیاس کہتا ہے کہ اسے پڑھ کر بمبیا زبان میں ‘منٹو کے دماغ کی بتی’ جل گئی۔ جب انھیں یہ کھونٹی مل گئی تو اس پر بقیہ فلمی سکرپٹ ٹانگنا منٹو کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔

The only mention of such a girl is found in a letter Ghalib wrote to his friend Mirza Hatim Ali Beg in order to console him on the death of his beloved, saying, “you are not alone in this, I too have gone through such an experience”. Apparently he never intended to describe his life’s story, instead he only wanted to console his friend.

غالب اور اس ڈومنی کے قصے کی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک خط میں اپنے دوست مرزا حاتم علی بیگ مہر کو ان کی محبوبہ کے انتقال پر تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم اس غم میں اکیلے نہیں ہو، میرے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آ چکا ہے۔یہ واقعہ بڑا مشکوک ہے، اس خط کے علاوہ اس کی کہیں اور شہادت نہیں ملتی، اور یہاں بھی غالب کا مدعا اپنے حالاتِ زندگی بیان کرنا نہیں، محض اپنے دوست کی دلجوئی ہے۔

مرزا غالبتصویر کے کاپی رائٹJAGDEESH TALURI
Image captionمرزا غالب کا مزار دلی میں واقع ہے

Ghalib has no problem in inventing events in his life. It is possible that Ghalib mentioned this dancing girl just in a flow of writing. But for Manto this was enough.

Why must there be always a prostitute in each and every story written by Manto? Manto himself answers this question. A woman who toils whole day grinding grain on stone hand mill and in the night goes to sleep cannot be my heroin in my stories. Therefore Manto tries, and succeeds, to unveil the real face of the society using prostitutes’ character as a tool.

غالب کو اپنی زندگی کے واقعات گھڑنے میں کچھ عار نہیں ہوتا۔ فارسی کے استاد ملا عبدالصمد اس کی ایک عام مثال ہیں۔ اس لیے کوئی بعید نہیں کہ غالب نے یہ واقعہ بھی خط لکھتے لکھتے تراش لیا ہو۔ لیکن منٹو کے لیے یہی دو فقرے کافی تھے۔

آخر طوائف ہی منٹو کو کیوں ‘ہانٹ’ کرتی ہے؟

وہ خود اپنے موضوعات کے بارے میں لکھتے ہیں: ‘چکی پیسنے والی عورت جو دن بھر کام کرتی ہے اور رات کو اطمینان سے سو جاتی ہے، میرے افسانوں کی ہیروئن نہیں ہو سکتی۔’

چنانچہ منٹو طوائف کے کردار کو آلۂ کار بنا کر بہت فنکاری سے دکھا کر معاشرے کے چہرے سے پردہ چاک کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس میں انھیں خاصی کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔

میرے خیال سے منٹو انسان کی منافقت، لالچ، مکر و فریب، ریاکاری اور سب سے بڑھ کر دھوکہ دہی کے بارے میں لکھنے کے متمنی تھے اور طوائف کے کوٹھے سے بڑھ کر کون سا ایسا مقام ہو سکتا ہے جہاں یہ ساری بدروئیں آپس میں مل کر ایک نالے کی شکل اختیار کر لیتی ہیں؟

The script on Ghalib was ready in 1942 but it took 12 years before it was filmed. By then Manto had moved to Pakistan. Sohrab Modi decided to make a film on this story and hired another top Urdu writer Rajinder Singh Bedi to write the dialogues. In this film Ghalib is plyed by Bharat Bhushan but the real character around which the story revolves is not Ghalib. This central character played by Surayya was a prostitute named Moti Begum and whom Ghalib names Chaudhwin begum.

غالب پر اس ‘فلمی افسانے’ کا سکرپٹ تو سنہ 42-1941 میں مکمل ہو گیا تھا، لیکن اسے پردۂ سیمیں پر نمودار ہوتے ہوتے 12 برس بیت گئے۔

اس وقت تک منٹو پاکستان آ چکے تھے۔آخر سہراب مودی نے یہ کہانی فلمانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے مکالمے لکھنے کے لیے انھوں نے ایک اور چوٹی کے افسانہ نگار یعنی راجندر سنگھ بیدی کی خدمات حاصل کیں۔

اس فلم میں غالب کا کردار بھارت بھوشن نے ادا کیا، تاہم منٹو کے ‘فلمی افسانے’ کا مرکزی کردار غالب نہیں بلکہ موتی بیگم نامی ایک طوائف ہے جو غالب کی شاعری کی قتیل ہے۔ فلم میں یہ کردار ثریا نے ادا کیا ہے۔ غالب اسے چودھویں بیگم کا خطاب دیتے ہیں۔

غالب کا پوسٹرتصویر کے کاپی رائٹSOHRAB MODI

 

The story is typical in that there comes a ‘kotwaal’ (Police inspector) as villain between Ghalib and Chaudhwin Begum who tries to destroy Ghalib at all costs. The end is the same as described by Ghalib in his letter. She dies, in the film, in his arms.

The Music director Ghulam Mohammad was able to render Ghalib’s difficult poetry in music very beautifully. To this day it remains unmatched. Generally, people remember Ghulam Mohammad by his music in the film Pakeezah, but his music in Mirza Ghalib is considered to be his best.

کہانی روایتی سی ہے۔ غالب اور چودھویں بیگم کے بیچ میں ایک کوتوال آ جاتا ہے، جو ہر قیمت پر غالب کو مغلوب کرنا چاہتا ہے۔ جہاں تک انجام کا سوال ہے تو وہی ہوا جو غالب نے خط میں لکھا تھا کہ وہ اس ستم پیشہ ڈومنی کو مار کر ہی دم لیتے ہیں اور چودھویں بیگم فلم کے آخر میں ان کی بانھوں میں دم توڑ دیتی ہے۔

البتہ موسیقار غلام محمد نے اس فلم میں غالب کی مشکل شاعری کو جس سہولت اور نغمگی سے فلمی موسیقی کے روپ میں ڈھالا ہے، اس کی نظیر آج تک نہیں ملتی۔ لوگ غلام محمد کو ‘پاکیزہ’ کے نغموں سے زیادہ جانتے ہیں لیکن مرزا غالب ان کی بہترین فلم سمجھی جاتی ہے۔

I don’t have the script of Manto before me and therefore it is impossible to ascertain as to how much the film is on his lines, but it can be said that the film remains chained to the typical Bollywood film formula.

It was not a great success on box office but claimed accolade from critics. It earned Fil Fare award of the year.

In Pakistan also in 1961 a film called Mirza Ghalib was made in which Noor Jahan played Chaudhwin Begum and Lala Sudheer played Ghalib. It was a disaster at the box office and proved to be the last film of Noor Jahan as heroin.

However, this film does give us a gem in the form of a ghazal sung by Noorjahan, and which will continue “illuminating the world by the flash of the wine glass” (This is a part of a line of the ghazal)

Listen to this superb ghazal sung superbly by Noor Jahan.

میرے سامنے منٹو کا اصل سکرپٹ نہیں ہے، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ منٹو کے سکرپٹ کو سکرین تک پہنچتے پہنچتے کن کن پلوں کے نیچے سے گزرنا پڑا لیکن جو فلم اپنی حتمی شکل میں سامنے آتی ہے، اسے دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ تجربہ بالی وڈ کی عام فارمولا فلموں سے کچھ زیادہ اوپر اٹھنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

فلم باکس آفس پر بھی اوسط کارکردگی کا مظاہرہ ہی کر سکی، البتہ اسے ناقدین نے خوب سراہا اور یہ اُس سال کا فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئی۔

اس فلم کی فنی کامیابی کو دیکھتے ہوئے 1961 میں پاکستان میں بھی مرزا غالب ہی کے نام سے ایک فلم بنائی گئی۔ اس فلم میں لالہ سدھیر نے غالب کا، جب کہ نور جہاں نے چودھویں بیگم کا کردار ادا کیا۔ یہ فلم اتنی بری طرح سے پِٹ گئی کہ نور جہاں کے بطور ہیروئن کریئر کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔

البتہ اس فلم کی ایک سوغات آج بھی زندہ ہے، تصدیق حسین کی موسیقی میں نور جہاں نے ایک غزل ایسی گا دی جو جوشِ قدح سے بزم کو ہمیشہ چراغاں کرتی رہے گی۔

 
6 Comments

Posted by on February 18, 2017 in Uncategorized

 

DILIP KUMAR AND YOUSUF KHAN

SHAKTI WAS FILMED WITH aMITABH bACHCHAAN

http://www.bbc.com/urdu/entertainment/2014/07/140713_dilip_kumar_greatest_actor_mb?post_id=10153158541144006_10154403496024006#_=_

 
2 Comments

Posted by on December 11, 2016 in Uncategorized

 

Edge of Nothing

I am nothing you are nothing every thing is nothing.

SONYA KASSAM

at the edge of nothing and beyond nothing
i found even more nothing
it is this nothing that holds the stars in their places
the same nothing that is between each cell in my body

that space where nothing exists where nothing is extinguished
that space of uncreating creation that space of indestructibility

the nothing that is in the span between sound and silence
that which is in the pause between the answer and another question

the space slightly above my skin
and that slightly below my skin
filled with the power of zero
expanding in opposite directions
to two different worlds
voids that feel familiar

the space between each eyelash
where dreams are trapped
and they mingle with tears
and it is in that space within the teardrop that i am
each time i cried that you made me feel like nothing
i now thank you immensely
from the…

View original post 101 more words

 
8 Comments

Posted by on November 3, 2016 in Uncategorized

 
Gallery

Afrikan brick Art – by Charis Tsevis

Afrikan brick Art – by Charis Tsevis

wonderfully beautiful art.

Be ▲rtist - Be ▲rt Magazine

Afrikan brick Art - by Charis Tsevis - be artist be art - urban magazine Afrikan brick Art – by Charis Tsevis

Afrikan brick Art - by Charis Tsevis - be artist be art - urban magazine Afrikan brick Art – by Charis Tsevis

Afrikan brick Art - by Charis Tsevis - be artist be art - urban magazine Afrikan brick Art – by Charis Tsevis

Afrikan brick Art - by Charis Tsevis - be artist be art - urban magazine Afrikan brick Art – by Charis Tsevis

Afrikan brick Art - by Charis Tsevis - be artist be art - urban magazine Afrikan brick Art – by Charis Tsevis

Afrikan brick Art – by Charis Tsevis 

Be artist Be art - urban magazine Be artist Be art – urban magazine

View original post

 
8 Comments

Posted by on September 30, 2016 in Uncategorized

 

Dikhai Diye Yun Ke Bekhud Kiya – Mir Taqi Mir

urduwallahs

Poet Mir Taqi Mir was the leading Urdu poet of the 18th century, and remains arguably the foremost name in Urdu poetry often remembered as Khuda-e-sukhan (god of poetry).
Given Below is one of his exquisite works which was also recited in one of our Mehfils.

 
Faqiraana aaye sadaa kar chale,
Miyaan khush raho hum dua kar chale.
 
Mendicant like i came and part
Praying that you be blessed.
 
Jo tujh bin jeene ko kahte the hum,
So is ahd ko ab wafa kar chale.
 
Without you i will not live
Behold, this pledge i now redeem
 
Koi naumidana karte nigah,
so tum ham se munh bhi chippa kar chale.
 
An unhopeful glance i could have cast,
But you hid your face walking me past.
 
Bahut aarzoo thi gali ki teri,
So yaan se lahu mein naha kar chale.
 
To visit your street, i deeply…

View original post 152 more words

 
7 Comments

Posted by on September 7, 2016 in Uncategorized

 

Akhtar Shahjahanpuri ka sheri Majmooa “Saeban” (Post – 6)

each and every sher is superb. wah wah wah …..

Urdu Poetry - Collection by Saleem Khan

saeban(6)0001saeban(6)0002saeban(6)0003saeban(6)0004saeban(6)0005saeban(6)0006

View original post

 
Leave a comment

Posted by on May 11, 2016 in Uncategorized

 

FAZAL AHMAD KARIM FAZLI

 (Copied from internet site, http://www.pakistanconnections.com/people/detail/1003,)
English rendition is mine.

Fazal Ahmad Karim Fazli (فضل احمد کریم فضلی )

فضل احمد کریم فضلی

اصل نام سید فضل احمد کریم نقوی اور تخلص فضلی تھا۔ 5 نومبر 1906 ء کو اعظم گڑھ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن الہ آباد تھا۔ خاندان کے سارے افراد علم دوست اور شعرو سخن کا ذوق رکھتے تھے۔ ان کے والد سید فضل رب فضل اپنے عہد کے خوشگوارشعرأ میں شمارکیے جاتے تھے۔ اس طرح فضلی صاحب کو شعر و سخن کا ذوق ورثہ میں ملا۔ فضلی صاحب کم عمری ہی میں غالب، ذوق، اکبراور اقبال سے متعارف ہو چکے تھے۔ پھر والد محترم کی وجہ سے بہت سے شعرأ حضرات بھی ان کے گھر آتے تھے جن میں صفی لکھنوی، ظریف لکھنوی، اثر لکھنوی اور جگر مراد آبادی بھی شامل تھے۔ اس سے سارے ماحول اور پس منظر کا نتیجہ یہ ہوا کہ فضلی صاحب نے بارہ سال کی عمر میں شعر کہنا شروع کر دیا۔ شروع میں اصلاح کے لیے وہ اپنے شعر والد کودکھایا کرتے تھے۔ لیکن ان کے والد نے فضلی صاحب کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ وہ انہیں یہ ہدایت فرماتے تھے کہ پہلے تعلیم مکمل کرلو پھر شاعری کرنا لیکن وہ خفیہ طور پر شعر کہتے اور دوستوں کی فرمائش پر نجی محفلوں میں پڑھتے تھے۔
فضل احمد کریم نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر حاصل کی۔ پانچ سال کی عمر میں ’’رسم بسم اﷲ‘‘ ہوئی اور پھر قرآن پاک کی تعلیم شروع ہوئی۔ ڈیڑھ سال میں انہوں نے قرآن پاک ختم کر لیا۔ 1926 ء میں انہوں نے ایوننگ کر سچین کالج الہ آباد سے انٹر اور پھر الہ آباد یونیورسٹی سے بی اے کی سند حاصل کی۔ 1930 ء میں کلکٹری اور آئی سی ایس کے امتحانات دئیے۔ آئی سی ایس کے امتحان میں وہ تیسرے نمبر پر رہے۔ اس کے بعد تربیت کے لیے آکسفورڈ یو نیورسٹی بھیج دئیے گئے۔ وہاں انہوں نے اپنے تحقیقی مقالے The Orignal Development of Persain Ghazal پر ڈی لٹ کی ڈگری حاصل کی۔
لندن سے واپسی پر بنگال میں ان کی تعیناتی ہوئی جہاں سے انہوں نے بنگالی زبان بھی سیکھ لی۔ وہ سیکر یٹر ی محکمہ تعلیمات مشرقی پاکستان رہے اور کچھ عرصے فضل احمد صاحب وزارت امور کشمیر کے سیکر ٹری بھی ہوئے۔ فضلی صاحب کراچی میں الہ آباد یو نیو رسٹی اولڈ بوائز ایسو سی ایشن کے صدربھی رہ چکے تھے۔ اولڈ بوائز کے جلسوں میں تشریف لاتے تو لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہتے تھے۔ ان کی شخصیت کا ایک پہلویہ تھا کہ وہ آئی سی ایس ہوتے ہوئے بھی عجز و انکسار کے مجسمہ تھے۔
فضلی صاحب یوں تو بلند پایہ غزل گو شاعر تھے مگر ان کی اور بھی مختلف حیثیتیں تھیں۔ وہ افسانہ نگار، فلمساز، اعلیٰ سول آفیسر اور ایک منکسر المزاج انسان تھے۔ فضل احمد کریم فضلی صاحب نے اپنا پہلا ناول’’خونِ جگر ہونے تک‘‘ لکھ کر علمی و ادبی دنیا میں تہلکہ مچا دیا اور ساتھ ساتھ ذہنوں کو جھنجلا کے رکھ دیا تھا۔ یہ ان کا ضخیم ناول تھا۔ ان کی متعدد تصانیف ہیں جن میں ’’پاکستانی ثقافت و وطنیت کے چند پہلو‘‘، شاعری کے مجموعے ’’چشم غزال‘‘، ’’نغمہ زندگی‘‘ (جو تقسیم سے پہلے 1941 ء کو شائع ہو گیا تھا) شامل ہیں۔
پاکستان میں ملازمت کے بعد وہ فلم سازی کی طرف آگئے اور کچھ فلمیں بھی بنائیں جن میں ’’ایسا بھی ہوتا ہے‘‘، ’’ چراغ جلتا رہا‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔ ’’چراغ جلتا رہا‘‘ کو بہت شہرت ہوئی تھی۔ اس فلم نے پاک فلم انڈسٹری کو کئی کامیاب فن کار دئیے۔
17 ،دسمبر 1981ء کو ’’چشم غزال‘‘ کا شاعر ’’نغمہ زندگی‘‘ سناتے سناتے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ انہیں پی ای سی ایچ کراچی کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
ان کی تصانیف میں ایسا بھی ہوتا ہے، خون جگر ہو نے تک(ناول)،چراغ جلتا رہا، سحرہو نے تک(ناول)،نغمہ زندگی، (مجموعہ کلام)، وقت کی پکار قابل ذکر ہیں۔ فضلی صاحب کے کلام کچھ اشعار ملاحظہ ہوں۔

غموں سے کھیلتے رہنا کوئی ہنسی بھی نہیں
نہ ہو یہ کھیل تو پھرلطف زندگی بھی نہیں

نہیں کہ دل تمنا میرے کوئی بھی نہیں
مگر ہے بات کچھ ایسی کہ گفتنی بھی نہیں


وہ کہہ رہے ہیں مجھے قتل کرکے اے فضلی
کہ ہم نہیں جو ترے قدر داں کوئی بھی نہیں

حسن ہر شے میں ہے گر حسن نگاہوں میں ہو
دل جواں ہوتو ہر اک شکل بھلی لگتی ہے

ادائیں ان کی سناتی ہیں مجھ کو میری غزل
غزل بھی وہ کہ جو میں نے ابھی کہی بھی نہیں

Real name was Fazal Ahmad Karim and Fazli was his pen name. He was born in Azam GaRh, India on 5 November, 1906 and Allahabad was his home town. His family was well versed in literature and poetry.His father himself was a good poet and thus he inherited the love of poetry from him. From childhood he got acquainted with Ghalib, Iqbal, Zauq and Akbar. Due to the fact that his father was a poet, poets like Asar Lukhnawi, Safi Lukhnawi, Zareef Lukhnawi and Jigar Moradabadi used to frequent his house. This literary atmosphere had the effect on him so much that he started composing couplets right from the age of 12. He at first showed his father his work for scrutiny. His father did not encourage him much saying he should concentrate on his studies first. He continued writing poetry in secret and frequently read in friendly poetic meets with his friends.He did his B.A. from Allahabad University and then appeared in ICS Exams which he qualified with colours. He was sent to Oxford, England for further training where he wrote a paper on “THE ORIGINAL DEVELOPMENT OF PERSIAN GHAZALS” and earned D. Lit. degree. Upon return he was posted to Bengal where he also learnt Bangla Bhasha. He was later the secretary Education in East Pakistan. In Karachi he was president of Allahabad University Old Boys club. He was very humble despite being an ICS Officer. Besides being a great poet, he was at the same time a short story writer and film producer. His first novel, voluminous as it was,  by the name of “Khoon e jigar hone tak” was huge success and created quite a stir in the helm of literature. His other publications include “Pakistan ki saqafat aur tabiyat ke chand pahloo”, majmua e ghazal,”Chashm e Ghazaal” and “Naghma e zindagi”

He later became film producer and produced ,”Aysa bhi hota hai” and “Chiragh Jalta raha” etc.

He died in 19981 and is buried in Karachi.

ज़हरे ग़म खा के भी अच्छा तो हूं , और क्या चाहिए हँसता तो हूं

दिले दुश्मन में खटकता तो हूँ , कुछ न होने पे भी इतना तो हूँ

क्या करूँ आह जो मुंह से निकले , वैसे खामोश मैं रहता तो हूँ

क्या ज़रूरत मुझे वीराने की, बज़मे यारां में भी तनहा तो हूँ

तुम अगर मेरे नहीं हो, न सही ,मैं बहर हाल तुम्हारा तो हूँ

जाने वहशत के मुहब्बत है मुझे , खोया खोया हुआ रहता तो हूँ

देखिये देखिये कब आते हैं, आने वाले हैं, यह सुनता तो हूँ

आप को खेल तमाशे हैं पसंद , मैं भी एक खेल तमाशा तो हूँ

आप देखें न तो क्या इसका इलाज ,वैसे मैं बज़्म में बैठा तो हूँ

हाले ज़ार उनसे कहूँ क्या फ़ज़ली , वोह समझते हैं मैं अच्छा तो हूँ

 
Leave a comment

Posted by on November 15, 2015 in Uncategorized

 

Tags: , , , , , , , ,