RSS

Yoga in Khayber Pakhtoon Khwa. (Pakistan Northern region)

10 Nov

Yoga is good. For Laugter therapy, please see the Hindi Film Munna Bhai MBBS.

I have a personal experience. I had pain in my left leg and was limping for months. The Hospital therapy failed to cure fully, and the remaining 20% was cured in few weeks of Yoga. 20 years ago.  (I think I should start it again just to keep good.)

About laughter therapy I have doubts.

Below is from BBC Urdu.com.

ڈیرہ اسماعیل خان: دہشت اور ذہنی کوفت کو ’دفع دور‘ کرنے کے لیے مفت یوگا

  • 9 نومبر 2018
yoga

ڈیرہ اسماعیل خان کے مرکزی پارک میں قہقہے لگاتے سینکڑوں افراد لوگوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ ہر ایک کا یہی سوال ہے: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ کہیں پاگل یا دیوانے تو نہیں؟

کسی نے بتایا کہ یہ لوگ یوگا کر رہے ہیں اور قہقہے لگانا ’لافٹر تھیرپی‘ ہے۔ یعنی قہقہے لگا کر غم غلط کرنے کی مشق۔

یہ یوگا کیا چیز ہے؟ اس سے بیشتر لوگ نا واقف ہیں۔ لیکن لیکن جوں جوں اس ورزش کے بارے میں لوگوں کو آگاہی بڑھی، یوگا کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ میں بھی ہو رہا ہے۔ آج ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک نہیں، پانچ یوگا کلب قائم ہو چکے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے اس پسماندہ ضلع میں لوگ پرتشدد واقعات کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس سال کے گذشتہ دس ماہ میں اس شہر میں 40 افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے بھی یہ شہر بری طرح متاثر ہوا ہے اور یہاں متعدد دھماکوں اور خود کش حملوں میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات تو اب معمول بن چکے ہیں۔ عاشورہ کے جلوس پر حملے اور جنازوں پر فائرنگ کے واقعات بھی عام ہیں۔

اس یوگا کلب میں ہنسنا منع نہیں، ضروری ہے!

 

عوام کی ذہنی کیفیت کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ پڑھے لکھے لوگوں نے جب شہر کے حق نواز پارک میں یوگا کلب کا آغاز کیا تو اس وقت اس میں صرف چار افراد شامل تھے۔

یوگا شروع کرنے والوں میں گومل یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر وسیم اکبر نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگوں کی منتیں کرتے تھے کہ آپ آئیں، اس سے آپ کو فائدہ ہوگا۔ لیکن اکثر لوگ پوچھتے کہ ’یہ یوگا کیا چیز ہے؟‘

اب لوگوں کو اس کی افادیت کا اندازہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ نئے یوگا کلبز میں چار سے پانچ سو افراد یہ ورزش کرتے ہیں اور اس کی کوئی فیس نہیں ہے۔ لوگ اپنی مرضی سے صبح اور شام کے اوقات میں یہاں دل بہلانے اور ورزش کرنے آتے ہیں۔

yoga

یہاں مقامی لوگوں کے علاوہ جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے وہ لوگ بھی یوگا کے لیے آتے ہیں جو فضائی بمباری اور جنگ کے ماحول سے آئے ہیں۔ ان میں ایک شخص ایسا بھی ہے جو افغانستان کی قندھار جیل میں قید رہا اور وہاں اس پر شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کیا گیا تھا۔

اس شہر سے تعلق رکھنے والے کرنل ریٹائرڈ خالد علی زئی پنجاب کے مختلف شہروں میں یوگا کلبز قائم کر چکے ہیں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی اس کا آغاز انھوں نے ہی کیا ہے۔ ان کے بقول ان کا مقصد ’ہسپتال ویران اور پارک آباد‘ کرنا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یوگا سے مختلف بیماریوں کا علاج ہوتا ہے اور ایسے افراد جنھیں مختلف عارضے لاحق تھے، یوگا کی بدولت وہ اب تندرست ہیں۔

اس کلب میں ورزش کرتے ہوئے 73 سالہ ریٹائرڈ استاد اور ماضی کے ہاکی کے کھلاڑی محمد کامل نے بتایا کہ ان کے گھٹنوں اور کندھوں میں شدید درد رہتا تھا، لیکن اس ورزش کے بعد وہ واضح بہتری محسوس کر رہے ہیں۔

یوگا

ڈیرہ اسماعیل خان میں اب پہلی مرتبہ خواتین پارک بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں خواتین یوگا کرتی ہیں۔

خاتون انسٹرکٹر مسز خالد نے بی بی سی کو بتایا کہ بیشتر خواتین ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ’انھیں ہر لمحہ یہ فکر رہتی ہے کہ بچے کہاں ہیں اور شوہر کی فکر لاحق رہتی ہے۔‘

اس شہر میں خواتین گھروں سے کم ہی باہر نکلتی ہیں، لیکن یوگا کلبز کے قیام سے انھیں ذہنی سکول ملا ہے۔

مسز خالد کے مطابق پہلے ان خواتین کے لیے گھر میں انتظام کیا گیا تھا، جہاں چند ایک خواتین آتی تھیں۔ لیکن اب خواتین پارک میں ان کی تعداد بڑھ گئی ہے۔

yoga

اس شہر کے طویل کشیدہ حالات سے خواتین بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ ان میں ایسی خواتین بھی شامل ہیں جن کے گھروں یا محلّوں کوئی نہ کوئی شخص دہشت گردی کا نشانہ بن چکا ہے۔

اس شہر میں نفسیاتی کاؤنسلنگ کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں اور ذہنی آسودگی حاصل کرنے کا کوئی اور طریقہ بھی نہیں۔ شاید اسی لیے یہاں کے لوگوں کے لیے مہنگی دوائیوں کی نسبت یوگا کی مشق زیادہ کارآمد ثابت ہو رہی ہے۔

Advertisements
 
3 Comments

Posted by on November 10, 2018 in Uncategorized

 

Tags: , , , , ,

3 responses to “Yoga in Khayber Pakhtoon Khwa. (Pakistan Northern region)

  1. Carolyn Page

    November 11, 2018 at 7:36 am

    I agree, Shakil, yoga is such a good way to keep our bodies in ‘good working order’.
    I don’t know enough about, nor have I tried the ‘laughing therapy’; so I will refrain from commenting. However, I know many people swear by it to keep themselves healthy! 🙂
    xoxoxo

     
    • shakilakhtar

      November 11, 2018 at 2:55 pm

      Yoga with spritual meditation is the complete package. But we earthlings stick to the physical portion and still get the physical well beig as a result. the spirit (soul?) remains where it is. Yoga is the one great gift of India to the world, along with “Sattyam ev jayate” (Only truth wins), and “ahinsa parmodahrma” (non voilence is THE religion).
      on the other hand, Laughter therapy, also originates from India without any Vedic backing, is artificial and may not work. How can you force a laughter?. It is mechanical baring of teeth with forced sounds from the throat ! Yes they say laughter is the best medicine. but then it is about genuine laugh, even a smile. And if we have a habit of sharing jokes that give rise to spontaneous giggling or even a smile shoud work and make us happy.

       
  2. Carolyn Page

    November 12, 2018 at 10:14 am

    Yes, Shakil; I love so much of the Indian philosophy. I’ve also visited India during 1995. I really did not want to leave. You know I used to teach meditation during the nineties and early noughties. And yes, I agree with you. Yoga is not only for the body (though, an excellent body discipline). If done correctly it becomes a complete package, as you say. All systems; the physical, mental and spiritual bodies connect to become as one… I’m smiling just thinking about it.. 🙂

     

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

 
%d bloggers like this: