RSS

Monthly Archives: December 2017

JERUSALEM AND DAR US SALAAM

Jerusalem is Dar us Salaam in Arabic. It literally means Abode of peace. Paradise is also called Dar us salaam because there is peace only. I know three Dar us salaams: 1. Dar es Salaam (Tanzania), 2. Brunei Darussalaam, and 3.Jerusalem. I have lived for years in the first two and found them very peaceful. But Jerusalem? No, unfortunately.

Below is an account of Jerusalem’s 7000 years turbulent history from BBC Urdu.

یروشلم: سات ہزار برسوں کی خون آلود تاریخ

  • دسمبر 2017

برطانوی جنرل سر ایڈمند ایلن بی کو یروشلم کے تقدس کا اس قدر خیال تھا کہ جب وہ عثمانی فوجوں کو شکست دے کر یروشلم پر قبضے کی غرض سے باب الخلیل کے راستے شہر میں داخل ہوئے تو انھوں نے گھوڑے یا گاڑی پر سوار ہونے کی بجائے پیدل چلنے کو ترجیح دی۔

یہ واقعہ آج سے ایک سو سال پہلے 11 دسمبر 1917 کو پیش آیا تھا۔

ایلن بیتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionجنرل ایلن بی یروشلم میں

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ لوئڈ جارج نے اس موقعے پر لکھا کہ ‘دنیا کے مشہور ترین شہر پر قبضے کے بعد مسیحی دنیا نے مقدس مقامات کو دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔’

تمام مغربی دنیا کے اخباروں نے اس فتح کا جشن منایا۔ امریکی اخبار نیویارک ہیرلڈ نے سرخی جمائی: ‘برطانیہ نے 673 برس کے اقتدار کے بعد یروشلم کو آزاد کروا لیا ہے۔۔۔ مسیحی دنیا میں زبردست خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔’

اخبار نیویارک ہیرلڈتصویر کے کاپی رائٹNEW YORK HERLAD
Image captionاخبار نیویارک ہیرلڈ کا تراشہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے کے ٹھیک سو سال بعد آج اعلان کر دیا ہے کہ یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے، حالانکہ دنیا بھر کے ملکوں نے انھیں خبردار کیا کہ اس اعلان سے خطے میں تشدد کی نئی لہر پھوٹ سکتی ہے۔

یروشلم متعدد بار تاخت و تاراج ہوا ہے، یہاں کی آبادیوں کو کئی بار زبردستی جلاوطن کیا گیا ہے، اور اس کی گلیوں میں ان گنت جنگیں لڑی جا چکی ہیں جن میں خون کے دریا بہہ چکے ہیں۔

یروشلم کے میئرتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionیروشلم کے میئر حسین حسین (دائیں سے تیسرے) نے 1917 میں شہر کی چابیاں انگریزوں کو تھما دیں

مقدس شہر

یہ دنیا کا وہ واحد شہر ہے جسے یہودی، مسیحی اور مسلمان تینوں مقدس مانتے ہیں۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے کائنات کی تخلیق ہوئی اور یہیں پیغمبرحضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی کی تیاری کی تھی۔

مسیحی سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کو یہیں مصلوب کیا گیا تھا اور یہیں ان کا سب سے مقدس کلیسا واقع ہے۔

مسلمانوں کے اعتقاد کے مطابق پیغمبر اسلام نے معراج پر جانے سے قبل اسی شہر میں واقع مسجدِ اقصیٰ میں تمام نبیوں کی امامت کی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ مسلمان اور مسیحی ایک ہزار برس تک اس شہر پر قبضے کے لیے آپس میں برسرِ پیکار رہے ہیں۔

صلیبی جنگیں

مسلمانوں نے سب سے پہلے 638 میں دوسرے خلیفہ حضرت عمر کے دور میں بازنطینیوں کو شکست دے کر اس شہر پر قبضہ کیا تھا۔ مسیحی دنیا میں یہ واقعہ عظیم سانحے کی حیثیت رکھتا تھا۔ آخر 1095 میں پوپ اربن دوم نے یورپ بھر میں مہم چلا کر مسیحیوں سے اپیل کی کہ وہ یروشلم کو مسلمانوں سے آزاد کروانے کے لیے فوجیں اکٹھی کریں۔ نتیجتاً 1099 میں عوام، امرا اور بادشاہوں کی مشترکہ فوج یروشلم کو آزاد کروانے میں کامیاب ہو گئی۔

یہ پہلی صلیبی جنگ تھی۔

تاہم اکثر فوجی جلد ہی واپس اپنے اپنے وطن سدھار گئے اور بالآخر سلطان صلاح الدین ایوبی 90 برس بعد شہر کو آزاد کروانے میں کامیاب ہو گئے۔

ایک بار پھر یورپ میں بےچینی پھیل گئی اور یکے بعد دیگر چار مزید صلیبی جنگیں لڑی گئیں، لیکن وہ یروشلم سے مسلمانوں کو بےدخل کرنے میں ناکام رہیں۔

البتہ 1229 میں مملوک حکمران الکامل نے بغیر لڑے یروشلم کو فریڈرک دوم کے حوالے کر دیا۔ لیکن صرف 15 برس بعد خوارزمیہ نے ایک بار پھر شہر پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد اگلے 673 برس تک یہ شہر مسلمانوں کے قبضے میں رہا۔

امریکی اخبار نے انھی 673 برسوں کی طرف اشارہ کیا تھا۔

1517 سے 1917 تک یہ شہر عثمانی سلطنت کا حصہ رہا اور عثمانی سلاطین نے شہر کے انتظام و انصرام کی طرف خاصی توجہ کی۔ انھوں نے شہر کے گرد دیوار تعمیر کی، سڑکیں بنائیں اور ڈاک کا نظام قائم کیا، جب کہ 1892 میں یہاں ریلوے لائن بچھا دی گئی۔

یروشلمتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionیروشلم مسیحیوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے

دو حصے

جنرل ایلن بی کے قبضے کے بعد شہر تین دہائیوں تک برطانوی سلطنت میں شامل رہا اور اس دوران یہاں دنیا بھر سے یہودی آ آ کر آباد ہونے لگے۔ آخر 1947 میں اقوامِ متحدہ نے اس شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی منظوری دی، جس کے تحت نہ صرف فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا، بلکہ یروشلم کے بھی دو حصے کر دیے گئے جن میں سے مشرقی حصہ فلسطینیوں جب کہ مغربی حصہ یہودیوں کے حوالے کر دیا گیا۔

اس کے اگلے برس اسرائیل نے آزادی کا اعلان کر دیا۔ عرب ملکوں کے لیے یہ بات ناقابلِ قبول تھی۔ انھوں نے مل کر حملہ کر دیا لیکن انھیں اس میں شکست ہوئی۔

دیوارِ گریہتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionدیوارِ گریہ جہاں یہودی آ کر روتے ہیں

اس کے بعد اگلے دو عشروں تک یروشلم کا مشرقی حصہ اردن کے اقتدار میں رہا لیکن 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے اس پر بھی قبضہ کر لیا۔ بین الاقوامی برادری آج تک اس قبضے کو غیرقانونی سمجھتی ہے۔

اسرائیلی پارلیمان نے 1950 ہی سے یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دے رکھا ہے لیکن دوسرے ملکوں نے اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے احترام میں یروشلم کی بجائے تل ابیب میں اپنے سفارت خانے قائم کر رکھے ہیں۔

اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس روایت کو توڑ دیا ہے۔ اس طرح امریکہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

یروشلمتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

اسرائیلی شاعر یہودا عمیحائی نے لکھا تھا کہ ’یروشلم ابدیت کے ساحل پر واقع ساحلی شہر ہے۔‘ یہ الگ بات ہے کہ یہ سمندر اکثر و بیشتر متلاطم ہی رہا ہے۔ اس کا اندازہ یروشلم کی اس مختصر ٹائم لائن سے لگایا جا سکتا ہے:

  • 5000 قبل مسیح: ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق سات ہزار سال قبل بھی یروشلم میں انسانی آبادی موجود تھی۔ اس طرح یہ دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے
  • 1000 قبل مسیح: پیغمبر حضرت داؤد نے شہر فتح کر کے اسے اپنی سلطنت کا دارالحکومت بنا لیا
  • 960 قبل مسیح: حضرت داؤد کے بیٹے پیغمبر حضرت سلیمان نے یروشلم میں معبد تعمیر کروایا جسے ہیکلِ سلیمانی کہا جاتا ہے
  • 589 قبل مسیح: بخت نصر نے شہر کو تاراج کر کے یہودیوں کو ملک بدر کر دیا
  • 539 قبل مسیح: ہخامنشی حکمران سائرس اعظم نے یروشلم پر قبضہ کر کے یہودیوں کو واپس آنے کی اجازت دی۔
  • 30 عیسوی: رومی سپاہیوں نے یسوع مسیح کو مصلوب کیا
  • 638: مسلمانوں نے شہر پر قبضہ کر لیا
  • 691: اموی حکمران عبدالملک نے قبۃ الصخرا (ڈوم آف دا راک) تعمیر کروایا
  • 1099: مسیحی صلیبیوں نے شہر پر قبضہ کر لیا
  • 1187: صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کو شکست دے کر شہر سے نکال دیا
  • 1229: فریڈرک دوم نے بغیر لڑے یروشلم حاصل کر لیا
  • 1244: دوبارہ مسلمانوں کا قبضہ
  • 1517: سلطان سلیم اول نے یروشلم کو عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا
  • 1917: انگریزی جنرل ایلن بی عثمانیوں کو شکست دے کر شہر میں داخل ہو گیا
  • 1947: اقوامِ متحدہ نے شہر کو فلسطینی اور یہودی حصوں میں تقسیم کر دیا
  • 1948: اسرائیل کا اعلانِ آزادی، شہر اسرائیل اور اردن میں تقسیم ہو گیا
  • 1967: عرب جنگ کے نتیجے میں دونوں حصوں پر اسرائیل کا قبضہ ہو گیا
یروشلمتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

۔

Advertisements
 
Leave a comment

Posted by on December 31, 2017 in History

 

HAPPY BIRTHDAY MIRZA GHALIB

Celebrating Ghalib’s 220th birthday with Google India.
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا توخدا ہوتا
  • Mirza Ghalib’s 220th Birthday. December 27, 2017

  • Today we celebrate one of Urdu literature’s most iconic poets, Mirza Asadullah Baig Khan, known in popular culture by many names, but most commonly as Ghalib (meaning conqueror).

    Born in the India and saw the reign of the last Mughal Emperor Bahadur Shah,Zafar, Ghalib showed a gift for language at an early age and was educated in Persian, Urdu, and Arabic.

    His verse is characterized by a lingering sadness borne of a tumultuous and often tragic life — from being orphaned at an early age, to losing all of his seven children in their infancy, to the political upheaval that surrounded the fall of Mughal rule in India. He struggled financially, never holding a regular paying job but instead depending on patronage from royalty and more affluent friends.

    But despite these hardships, Ghalib navigated his circumstances with wit, intellect, and an all-encompassing love for life. His contributions to Urdu poetry and prose were not fully appreciated in his lifetime, but his legacy has come to be widely celebrated, most particularly for his mastery of the Urdu ghazal (amatory poem).

    Irshaad mukarrar, Mirza!

    Early concepts of the Doodle below

 
1 Comment

Posted by on December 28, 2017 in adab and literature, GHAALIB

 

ink painting

20170306_174654

This poem of Sonya Kassam (SEE BELOW) reminds me of Ghalib when he says:

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں

غالب سریر خامہ نواےؑ سروش ہے

aate hain ghaib se yeh mazamin khayal mein

ghalib sareer e khama nawaye sarosh hai.

[I receive these topics (I write about) from ‘beyond’, O Ghalib, 

the very scratchy sound of pen on paper is in fact calling of the angel]

Here Ghalib alludes, if you did  not get, the fact that Angel Gabreil used to bring the verses from Allah (SWT) to the Prophet Mohammad (PBUH).

Ghalib seems to lift himself to prophet hood here but at other place he comes down to his humble self when he says,

گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طور پر

دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر

[girni thi ham pe barq e tajalli na toor par

dete hain baada zarf e qadah khwaar dekh kar]

Here Ghalib again remembers a prophet and what happened when he visited Mountain TOOR (in Sainai)

He was Moosa (AS) and he used to be in conversation with God Himself there. One day on his request God let him have a minute glimpse of Himself and that was enough for him to faint and the brightness was blinding.

Translation of the sher: If ever I were to be at Toor, there would never be the same Holy lightening as those who dispense pegs in a pub, give them only to those who have status.

 

 

SONYA KASSAM

it was the ink painting itself
the artist was a mere façade
for those who refuse to believe

creativity hangs in the air
searching for the one who is receptive
it could be you…

***

I keep getting asked how I think up my poetry. I hope the above verse explains it all

View original post

 
3 Comments

Posted by on December 21, 2017 in Uncategorized

 

urdu zaban by gulzar

Urdu is dhoop.

I have tried to pen down what he says “taa ke sanad rahe aur waqt e zaroorat kaam aaye” 🙂

 

 

یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا

یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا

مزہ کھلتا ہے اردو کا زباں پر

کہ جیسے پان کا مہنگا قوام گھلتا ہے-

نشہ آتا ہے اردو بولنے میں

گلوری کی طرح ہیں منھ لگی

 سب اصطلاحیں لطف دیتی ہیں

حلق چھوتی ہے اردو تو

حلق سے جیسے مے کا گھونٹ اترتا ہے

بڑی ارسٹوکریسی ہے زباں میں

فقیری میں نوابی کا مزہ دیتی ہے اردو

اگرچہ معنی کم ہوتے ہیں اور الفاظ  کی افراط ہوتی ہے

مگر پھر بھی

بلند آواز پڑھیے تو بہت ہی معتبر لگتی ہیں باتیں

کہیں کچھ دور سے کانوں میں پڑتی ہے اگر اردو

تو لگتا ہے کہ دن جاڑوں کے ہیں

کھڑکی کھلی ہے

دھوپ اندر آ رہی ہے-

 

 

 

 

 

 

 

 
4 Comments

Posted by on December 9, 2017 in adab and literature, Urdu Poetry