RSS

KAHAN GHALIB

09 Feb

‘لفظ ‘کہاں’ کہاں کہاں استعمال ہوتا ہے یہاں اسی بات پر بات ہو گی-

غالب کے دو شعر یاد آ رہے ہیں-

1- فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں

میں کہاں اور یہ وبال کہاں

  2- کہاں میخانے کا دروازہ غالب اور کہاں واعظ

پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

  غالب پر لب کشایؑ کی جسارت کرنے پر

اب آپ کوپورا اختیار ہے کہ ہم کو کہیں کہاں راجا بھوج اور کہاں کنگو تیلی

ایک دن ہماری بیگم شاپنگ مال میں کھو گیؑں

ہہت تلاش کیا آخر ایک دوست کے کہنے پر ایک خوبصورت خاتون سے کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے

– فورا بیگم نمودار ہویؑیں اور کہا ‘ تم یہاں ہو- ہم نے تم کو کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا    

بچپن میں سبزی والا آخر میں ایک نیبو اور دو تین ہری مرچیں تھیلے میں مفت ڈال دیتا تھا- 

ہاں ہم تھیلا لے کر بازار جاتے تھے- 

تھیلا جو پرانی پتلون کو کاٹ کر بنا یا جاتا تھا

اب ہم آپ کو نیبو اور ہری مرچ مفت میں دے رہے ہیں-

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گیؑیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گیؑیں

 

وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹہرا

تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنک آستاں کیوں ہو-

 

Advertisements
 
2 Comments

Posted by on February 9, 2017 in adab and literature, GHAALIB

 

2 responses to “KAHAN GHALIB

  1. Yousuf Qureshi

    February 9, 2017 at 10:44 am

    Kahaan Kahaan say aap yeh mukhtootaat lay kur aatay hain?? God Bless you.
    Ahqar
    Dr Yousuf Qureshi

     
    • shakilakhtar

      February 9, 2017 at 1:52 pm

      ہم آپ کے مشکور ہیں اور اس بار ہم نے خالص آپ اردو والوں ہی کے لیےؑ لکھا ہے– اللہ آپ کو بھی خوش رکھے- آمین-
      آپ نے محسوس کیا کہ اصل اشعار میں کہاں کہاں کی تکرار ہے اور جو مفت میں ملے ان میں صرف ایک کہاں ہے؟

       

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: