RSS

Monthly Archives: February 2017

Manto’s Ghalib

This post appeared on BBC Urdu on the 145th death anniversary of Ghalib, He died on 15th February, 1869.

“from Wikipedia: Ghalib (Urdu: غاؔلب‎; Hindi: ग़ालिब) born Mirza Asadullah Beg Khan (Urdu: مرزا اسد اللہ بیگ خان; Hindi: मिर्ज़ा असदुल्लाह् बेग़ ख़ान), on 27 December 1797 – died 15 February 1869),”

I thought to bring it here on my blog and translate in English for my Urdu Lovers.

غالب منٹو کی طوائف کی روشنی میں

Ghalib in the light of Manto’s nautch girl.

by Zafar Syed, on BBC Urdu.

مرزا غالبتصویر کے کاپی رائٹGHALIB ACADEMY
Ghalib’s poetry is such that any one from any walk of life is able to find a couplet that relates to his station. The same is true for his life. So the film makers who made films on him saw themselves in his life. The idea of making a film on Ghalib occurred first to Saadat Hasan Manto. It was at a time in 1941 when he was not in films and was working in All India Radio.

غالب کی شاعری ایسی ہے کہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے سے تعلق رکھنے والا شخص اس سے اپنے مطلب کا کوئی نہ کوئی شعر نکال ہی لیتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی بات ان کی زندگی پر بھی صادق آتی ہے، چنانچہ ان پر جو فلمیں اور ڈرامے بنے ان کے بنانے والوں نے غالب کی زندگی میں اپنا ہی رنگ دیکھا۔

غالب پر فلم بنانے کا خیال سب سے پہلے سعادت حسن منٹو کو آیا۔ یہ بات ہے 1941 کی جب وہ ان دنوں فلمی دنیا سے وابستہ نہیں ہوئے تھے بلکہ دہلی میں آل انڈیا ریڈیو میں کام کر رہے تھے۔

In a letter to Ahmad Nadim Qasmi he writes: “I am busy now a days writing a film story about Ghalib. I am reading a lot of rubbish. I have ordered all the books, not one is of any use. I do not know how these people writing biography of Ghalib write it like a joke! I have managed to save some material and still hope to save some more.”

وہ احمد ندیم قاسمی کو ایک خط میں لکھتے ہیں:

‘میں آج کل غالب پر فلمی افسانہ لکھنے کے سلسلے میں بہت مصروف ہوں۔ خدا جانے کیا کیا خرافات پڑھ رہا ہوں۔ سب کتابیں منگوا لی ہیں۔ کام کی ایک بھی نہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے سوانح نگارسوانح لکھتے ہیں یا لطیفے۔۔۔ کچھ مواد میں نے جمع کر لیا ہے اور کچھ ابھی جمع کرنا ہے۔’

What was it that Manto searched for in the life of Ghalib but could not find it.

Manto was an experienced writer and knew that in order to have a great story one must find some conflict or aberration in the life of the subject. But what, that was the question.

Manto stumbled upon the phrase ‘sitam pesha domni’ (dancing girl that specialised in playing hard to get) while browsing through the rubbish material in the books. In street language one might surmise that this was the gem he was looking for and it was easy for him to weave the whole story around it.

وہ کون سی بات تھی جو منٹو غالب کی سوانح میں ڈھونڈنا چاہتے تھے لیکن وہ انھیں ملتی نہیں تھی؟

منٹو بڑے فن کار تھے وہ جانتے تھے کہ فکشن کسی بڑی آویزش یا کنفلکٹ کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ لیکن غالب کی زندگی میں کیا آویزش دکھائی جائے؟

غالب کے بارے میں سوانح نگاروں کی ‘خرافات’ پڑھتے پڑھتے منٹو کو کہیں ‘ستم پیشہ ڈومنی’ کا فقرہ ملا۔ قیاس کہتا ہے کہ اسے پڑھ کر بمبیا زبان میں ‘منٹو کے دماغ کی بتی’ جل گئی۔ جب انھیں یہ کھونٹی مل گئی تو اس پر بقیہ فلمی سکرپٹ ٹانگنا منٹو کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔

The only mention of such a girl is found in a letter Ghalib wrote to his friend Mirza Hatim Ali Beg in order to console him on the death of his beloved, saying, “you are not alone in this, I too have gone through such an experience”. Apparently he never intended to describe his life’s story, instead he only wanted to console his friend.

غالب اور اس ڈومنی کے قصے کی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک خط میں اپنے دوست مرزا حاتم علی بیگ مہر کو ان کی محبوبہ کے انتقال پر تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم اس غم میں اکیلے نہیں ہو، میرے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آ چکا ہے۔یہ واقعہ بڑا مشکوک ہے، اس خط کے علاوہ اس کی کہیں اور شہادت نہیں ملتی، اور یہاں بھی غالب کا مدعا اپنے حالاتِ زندگی بیان کرنا نہیں، محض اپنے دوست کی دلجوئی ہے۔

مرزا غالبتصویر کے کاپی رائٹJAGDEESH TALURI
Image captionمرزا غالب کا مزار دلی میں واقع ہے

Ghalib has no problem in inventing events in his life. It is possible that Ghalib mentioned this dancing girl just in a flow of writing. But for Manto this was enough.

Why must there be always a prostitute in each and every story written by Manto? Manto himself answers this question. A woman who toils whole day grinding grain on stone hand mill and in the night goes to sleep cannot be my heroin in my stories. Therefore Manto tries, and succeeds, to unveil the real face of the society using prostitutes’ character as a tool.

غالب کو اپنی زندگی کے واقعات گھڑنے میں کچھ عار نہیں ہوتا۔ فارسی کے استاد ملا عبدالصمد اس کی ایک عام مثال ہیں۔ اس لیے کوئی بعید نہیں کہ غالب نے یہ واقعہ بھی خط لکھتے لکھتے تراش لیا ہو۔ لیکن منٹو کے لیے یہی دو فقرے کافی تھے۔

آخر طوائف ہی منٹو کو کیوں ‘ہانٹ’ کرتی ہے؟

وہ خود اپنے موضوعات کے بارے میں لکھتے ہیں: ‘چکی پیسنے والی عورت جو دن بھر کام کرتی ہے اور رات کو اطمینان سے سو جاتی ہے، میرے افسانوں کی ہیروئن نہیں ہو سکتی۔’

چنانچہ منٹو طوائف کے کردار کو آلۂ کار بنا کر بہت فنکاری سے دکھا کر معاشرے کے چہرے سے پردہ چاک کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس میں انھیں خاصی کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔

میرے خیال سے منٹو انسان کی منافقت، لالچ، مکر و فریب، ریاکاری اور سب سے بڑھ کر دھوکہ دہی کے بارے میں لکھنے کے متمنی تھے اور طوائف کے کوٹھے سے بڑھ کر کون سا ایسا مقام ہو سکتا ہے جہاں یہ ساری بدروئیں آپس میں مل کر ایک نالے کی شکل اختیار کر لیتی ہیں؟

The script on Ghalib was ready in 1942 but it took 12 years before it was filmed. By then Manto had moved to Pakistan. Sohrab Modi decided to make a film on this story and hired another top Urdu writer Rajinder Singh Bedi to write the dialogues. In this film Ghalib is plyed by Bharat Bhushan but the real character around which the story revolves is not Ghalib. This central character played by Surayya was a prostitute named Moti Begum and whom Ghalib names Chaudhwin begum.

غالب پر اس ‘فلمی افسانے’ کا سکرپٹ تو سنہ 42-1941 میں مکمل ہو گیا تھا، لیکن اسے پردۂ سیمیں پر نمودار ہوتے ہوتے 12 برس بیت گئے۔

اس وقت تک منٹو پاکستان آ چکے تھے۔آخر سہراب مودی نے یہ کہانی فلمانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے مکالمے لکھنے کے لیے انھوں نے ایک اور چوٹی کے افسانہ نگار یعنی راجندر سنگھ بیدی کی خدمات حاصل کیں۔

اس فلم میں غالب کا کردار بھارت بھوشن نے ادا کیا، تاہم منٹو کے ‘فلمی افسانے’ کا مرکزی کردار غالب نہیں بلکہ موتی بیگم نامی ایک طوائف ہے جو غالب کی شاعری کی قتیل ہے۔ فلم میں یہ کردار ثریا نے ادا کیا ہے۔ غالب اسے چودھویں بیگم کا خطاب دیتے ہیں۔

غالب کا پوسٹرتصویر کے کاپی رائٹSOHRAB MODI

 

The story is typical in that there comes a ‘kotwaal’ (Police inspector) as villain between Ghalib and Chaudhwin Begum who tries to destroy Ghalib at all costs. The end is the same as described by Ghalib in his letter. She dies, in the film, in his arms.

The Music director Ghulam Mohammad was able to render Ghalib’s difficult poetry in music very beautifully. To this day it remains unmatched. Generally, people remember Ghulam Mohammad by his music in the film Pakeezah, but his music in Mirza Ghalib is considered to be his best.

کہانی روایتی سی ہے۔ غالب اور چودھویں بیگم کے بیچ میں ایک کوتوال آ جاتا ہے، جو ہر قیمت پر غالب کو مغلوب کرنا چاہتا ہے۔ جہاں تک انجام کا سوال ہے تو وہی ہوا جو غالب نے خط میں لکھا تھا کہ وہ اس ستم پیشہ ڈومنی کو مار کر ہی دم لیتے ہیں اور چودھویں بیگم فلم کے آخر میں ان کی بانھوں میں دم توڑ دیتی ہے۔

البتہ موسیقار غلام محمد نے اس فلم میں غالب کی مشکل شاعری کو جس سہولت اور نغمگی سے فلمی موسیقی کے روپ میں ڈھالا ہے، اس کی نظیر آج تک نہیں ملتی۔ لوگ غلام محمد کو ‘پاکیزہ’ کے نغموں سے زیادہ جانتے ہیں لیکن مرزا غالب ان کی بہترین فلم سمجھی جاتی ہے۔

I don’t have the script of Manto before me and therefore it is impossible to ascertain as to how much the film is on his lines, but it can be said that the film remains chained to the typical Bollywood film formula.

It was not a great success on box office but claimed accolade from critics. It earned Fil Fare award of the year.

In Pakistan also in 1961 a film called Mirza Ghalib was made in which Noor Jahan played Chaudhwin Begum and Lala Sudheer played Ghalib. It was a disaster at the box office and proved to be the last film of Noor Jahan as heroin.

However, this film does give us a gem in the form of a ghazal sung by Noorjahan, and which will continue “illuminating the world by the flash of the wine glass” (This is a part of a line of the ghazal)

Listen to this superb ghazal sung superbly by Noor Jahan.

میرے سامنے منٹو کا اصل سکرپٹ نہیں ہے، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ منٹو کے سکرپٹ کو سکرین تک پہنچتے پہنچتے کن کن پلوں کے نیچے سے گزرنا پڑا لیکن جو فلم اپنی حتمی شکل میں سامنے آتی ہے، اسے دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ تجربہ بالی وڈ کی عام فارمولا فلموں سے کچھ زیادہ اوپر اٹھنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

فلم باکس آفس پر بھی اوسط کارکردگی کا مظاہرہ ہی کر سکی، البتہ اسے ناقدین نے خوب سراہا اور یہ اُس سال کا فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئی۔

اس فلم کی فنی کامیابی کو دیکھتے ہوئے 1961 میں پاکستان میں بھی مرزا غالب ہی کے نام سے ایک فلم بنائی گئی۔ اس فلم میں لالہ سدھیر نے غالب کا، جب کہ نور جہاں نے چودھویں بیگم کا کردار ادا کیا۔ یہ فلم اتنی بری طرح سے پِٹ گئی کہ نور جہاں کے بطور ہیروئن کریئر کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔

البتہ اس فلم کی ایک سوغات آج بھی زندہ ہے، تصدیق حسین کی موسیقی میں نور جہاں نے ایک غزل ایسی گا دی جو جوشِ قدح سے بزم کو ہمیشہ چراغاں کرتی رہے گی۔

 
6 Comments

Posted by on February 18, 2017 in Uncategorized

 

KAHAN GHALIB

‘لفظ ‘کہاں’ کہاں کہاں استعمال ہوتا ہے یہاں اسی بات پر بات ہو گی-

غالب کے دو شعر یاد آ رہے ہیں-

1- فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں

میں کہاں اور یہ وبال کہاں

  2- کہاں میخانے کا دروازہ غالب اور کہاں واعظ

پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

  غالب پر لب کشایؑ کی جسارت کرنے پر

اب آپ کوپورا اختیار ہے کہ ہم کو کہیں کہاں راجا بھوج اور کہاں کنگو تیلی

ایک دن ہماری بیگم شاپنگ مال میں کھو گیؑں

ہہت تلاش کیا آخر ایک دوست کے کہنے پر ایک خوبصورت خاتون سے کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے

– فورا بیگم نمودار ہویؑیں اور کہا ‘ تم یہاں ہو- ہم نے تم کو کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا    

بچپن میں سبزی والا آخر میں ایک نیبو اور دو تین ہری مرچیں تھیلے میں مفت ڈال دیتا تھا- 

ہاں ہم تھیلا لے کر بازار جاتے تھے- 

تھیلا جو پرانی پتلون کو کاٹ کر بنا یا جاتا تھا

اب ہم آپ کو نیبو اور ہری مرچ مفت میں دے رہے ہیں-

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گیؑیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گیؑیں

 

وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹہرا

تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنک آستاں کیوں ہو-

 

 
2 Comments

Posted by on February 9, 2017 in adab and literature, GHAALIB