RSS

GHALIB AUR MEER TAQI MEER, AAMNE SAAMNE.

16 Oct

 

GHALIB AND MEER TAQI MEER, AAMNE SAAMNE

دو اشعار اور ایک مضمون –  فیصلہ آپ کریں کے کون سا بہتر ہے-

روشن ہے اس طرح دل ویراں میں داغ ایک

اجڑے نگر میں جیسے جلے ہے چراغ ایک

میر تقی میر

لوگوں کو ہے خورشید _ جہاں تاب کا دھوکہ

ہر روز دکھاتا ہوں میں ایک داغ _ نہاں اور

غالب

 

دو اشعار اور ایک مضمون –  فیصلہ آپ کریں کے کون سا بہتر ہے-

دل کی ویرانی کا کیا مذ کور

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

میر تقی میر

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے

د شت کو د یکھ کے گھر یاد آیا

غالب

عشق کرتے ہیں اس پری رو سے

میر صاحب بھی کیا دیوانے ہیں

میر تقی میر

گدا سمجھ کہ وہ  چپ تھا جو میری شامت آ ئی

اٹھا  اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لئے

غالب

پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے

میر تقی میر

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن

خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

غالب

آخری شعر زبردستی کا ہے—– ہم کو غالب کے دیوان میں پتہ پتہ بوٹا بوٹا — کے مساوی کوئی ایک شعر نہیں ملا-

Advertisements
 
Leave a comment

Posted by on October 16, 2015 in GHAALIB

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: