RSS

Monthly Archives: October 2015

GHALIB AUR MEER TAQI MEER, AAMNE SAAMNE.

 

GHALIB AND MEER TAQI MEER, AAMNE SAAMNE

دو اشعار اور ایک مضمون –  فیصلہ آپ کریں کے کون سا بہتر ہے-

روشن ہے اس طرح دل ویراں میں داغ ایک

اجڑے نگر میں جیسے جلے ہے چراغ ایک

میر تقی میر

لوگوں کو ہے خورشید _ جہاں تاب کا دھوکہ

ہر روز دکھاتا ہوں میں ایک داغ _ نہاں اور

غالب

 

دو اشعار اور ایک مضمون –  فیصلہ آپ کریں کے کون سا بہتر ہے-

دل کی ویرانی کا کیا مذ کور

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

میر تقی میر

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے

د شت کو د یکھ کے گھر یاد آیا

غالب

عشق کرتے ہیں اس پری رو سے

میر صاحب بھی کیا دیوانے ہیں

میر تقی میر

گدا سمجھ کہ وہ  چپ تھا جو میری شامت آ ئی

اٹھا  اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لئے

غالب

پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے

میر تقی میر

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن

خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

غالب

آخری شعر زبردستی کا ہے—– ہم کو غالب کے دیوان میں پتہ پتہ بوٹا بوٹا — کے مساوی کوئی ایک شعر نہیں ملا-

Advertisements
 
Leave a comment

Posted by on October 16, 2015 in GHAALIB

 

Darte Ho? Noon Meem Rashid.

I would not dare to attempt any translation for it will never carry the magnificence.

۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی سے ڈرتے ہو؟
زندگی تو تم بھی ہو، زندگی تو ہم بھی ہیں!
آدمی سے ڈرتے ہو؟
آدمی تو تم بھی ہو، آدمی تو ہم بھی ہیں!
آدمی زباں بھی ہے، آدمی بیاں بھی ہے،
اس سے تم نہیں ڈرتے!
حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے، آدمی ہے وابستہ
آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ
اس سے تم نہیں ڈرتے!
“ان کہی” سے ڈرتے ہو
جو ابھی نہیں آئی، اس گھڑی سے ڈرتے ہو
اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو!

۔۔۔۔۔۔۔ پہلے بھی تو گزرے ہیں،
دور نارسائی کے، “بے ریا” خدائی کے
پھر بھی یہ سمجھتے ہو، ہیچ آرزو مندی
یہ شب زباں بندی، ہے رہ ِخداوندی!
تم مگر یہ کیا جانو،
لب اگر نہیں ہلتے، ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں
ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں، راہ کا نشاں بن کر
نور کی زباں بن کر
ہاتھ بول اٹھتے ہیں، صبح کی اذاں بن کر
روشنی سے ڈرتے ہو؟
روشنی تو تم بھی ہو، روشنی تو ہم بھی ہیں،
روشنی سے ڈرتے ہو!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہر کی فصیلوں پر
دیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخر
رات کا لبادہ بھی
چاک ہو گیا آخر، خاک ہو گیا آخر
اژدہام ِانساں سے فرد کی نوا آئی
ذات کی صدا آئی
راہِ شوق میں جیسے، راہرو کا خوں لپکے
اک نیا جنوں لپکے!
آدمی چھلک اٹّھے
آدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھو
تم ابھی سے ڈرتے ہو؟

-ن م راشد

 
Leave a comment

Posted by on October 13, 2015 in Uncategorized