RSS

TASHREEF LAANE KA SHUKRIA (ii)

30 Sep

forpeace6

click here to join blogger for peace.

……………………………………………………………………………………………………………………………

=======================================================================

Apart from Mr. GaRbaR, all the other characters are real and lived the scenes described here.

The Roman version is at the end.

a sequence to “TASHREEF LANE KA SHUKRIA (I) at

https://shakilakhtar.wordpress.com/2013/09/23/tashreef-lane-ka-shukria-i/

TASHREEF LAANE KA SHUKRIA (ii)

وہ ایک اچھے شاعر تھے – مراد علی  فکر صاحب –

ایک مقامی ہوٹل میں خاموشی سے چاۓ پینے کی  کوشش کر رہے تھے اور چاۓ پینا دوبھر ہو رہا تھا-

گھر سے سودا لینے کے لئے نکلے تو ہوٹل میں گھس گئے کہ شاید یہاں بیٹھے لوگ انکی شاعری سننے کی فرمایش کریں- لیکن یہ کیا؟ سامنے بیٹھا ہوا لڈ ن تو بس شروع ہی ہو گیا -اس کو فکر صاحب سے   الله واسطے کا بیر تھا- انھیں تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا- آج تو اس نے حد ہی کر دی – کہنے لگا،” مجھے کوئی فکر نہیں- فکر کی تو ماں کی ……..”

الو خاں ٹھیکی  والے کا یہ جوان اور خوبرو بیٹا عرصے سے دماغی خلل میں مبتلا تھا – بہوت علاج کرایا مسجد میں دعائیں کرایں ،لیکن وہ ایسا ہی رہا – پورا پاگل بھی نہیں تھا – بس صبح سے شام تک پھرتا رہتا ، آنے جانے والوں سے یا خود سے بے مطلب کلام کرتا ، ہوٹل میں اپنے مصاحبوں کے ساتھ وقت گزارتا – ذرا ذرا سی بات پر مرنے مارنے پر اتر آتا – اور فکر صاحب کو تنگ کرنا اسکا محبوب مشغلہ تھا-

ایک بار سردیوں کی شام جب دکانیں بند ہو گئیں اور دکانوں کے تختوں پر جا بجا اوباش لڑکے خش گپیوں میں مشغول تھے، ایک طرف سے آواز آیی ،
“جو دے اسکا بھی بھلا ، جو نہ دے اسکا بھی بھلا ٹھک ،ٹھک، ٹھک”
“کوئی اللہ کا بندہ ایک بیڑی پلوا دے ،ٹھک،ٹھک”
یہ حافظ جی تھے- اپنی لاٹھی ٹھک ٹھکا تے ہوئے ننگے پاؤں اس سردی میں گیلی سڑک  پر ایک طرف آہستہ آہستہ چلے جا رہے تھے – بوندہ باندی ہو رہی تھی -اندھیرے کا راج تھا اور کمیٹی کے کھمبوں سے کمزور اور پیلی روشنی چھٹک رہی تھی-
لڈن نے ایک لڑکے کو اکنی دی کہ جا  کر حافظ جی کی جیب میں ڈا ل دے  اور جیب  سے ایک بیڑی  نکا ل لاے – دوکانیں بند تھیں اور بیڑی سگریٹ ختم ہو گئی تھیں – تجربے سے انھیں معلوم تھا ک حافظ جی کس جیب  میں بھجوایی گئی  بیڑی رکھتے ہیں –

لڑکے کے ہاتھوں کو محسوس کر کے حافظ جی نے دعائیں دینا شروع کر دیں – اور اسکے جانے کے بعد جیب ٹٹولی تو پایا کہ اکنی تو تھی لیکن اکلوتی بیڑی غایب تھی- دعائیں اب مغلذات میں بدل گئیں – انکا آخر_شب بیڑی کا شغل خطرے میں پڑ گیا تھا- ہرچند کہ ایک آنے میں بیس بیڑیاں ملتی تھیں لیکن رات کے وقت آخری بیڑی کی قیمت وہ ہی جانتا ہے جو پیتا ہے-

ادھر لڈن نے بیڑی جلائی اور مستی میں کش لیتا ہوا سڑک پر آ گیا – بوندا باندی تو ہو رہی تھی ، ایک بوند تاک کر اسکی جلتی بیڑی کو بجھا گئی – سردیوں کی بوندیں بڑی اور بھاری ہوتی ہیں – اب جو لڈن نے  اس کمبخت بوند کو گالیاں دینا شروع کیا ہے تو دیتا ہی گیا – اس سالی بوند کو ساری دنیا میں ایک یہ ہی جگہ رہ گئی تھی ، میری بیڑی کا جلتا ہوا کنارہ؟ اس کی تو ماں کی ….گھنٹوں وہ بس اسی پر لگا رہا –

حافظ جی جا چکے تھے- عاصم صاحب نہ جانے کہاں ے سے آ نکلے- معلوم کرنے پر لڑکوں نے قصّہ سنا دیا – وہ بولے ،”یہ تو بڑی گڑبڑ ہو گئی – وہ بوند بڑی ہی گڑبڑ ہو گی – حافظ جی کے ساتھ بھی بڑی گڑبڑ کی تم لوگوں نے “- انہوں نے لڈن کو ایک بیڑی پیش کی تو وہ ٹھنڈا ہوا –

یہ ہی لڈن آج فکر صاحب کو ایک طرح سے لتاڑ رہا تھا- مجھے فکر کی کیا ضرورت – مجھے کسی بات کی فکر نہیں – میں فکر پر ہزار لعنت بھیجتا ہوں – فکر کی بہن ……… فکر کی ماں ……….

اچانک فکر صاحب اٹھ گئے- انسے اور نہ سنا گیا – آدھی چاۓ گلاس میں اب بھی رہ گئی تھی اور ٹھنڈی ہو گئی تھی- ہوٹل کے لڑکے نے گلاس اٹھا کر غٹا غٹ ایک ہی سانس میں وہ ٹھنڈی چاۓ پی ڈالی اور جاتے ہوئے فکر صاحب کو دیکھا ، پھر کاؤنٹر پر کھڑے مالک کو دیکھا- ہوٹل کا مالک ریاض سب دیکھ اور سن رہا تھا – اس نے لڑکے کو اشارہ کیا: کوئی بات نہیں- فکر صاحب پیسے بعد میں دے دیں گے- جانے دو-

باہر سیڑھیوں پر عاصم صاحب مل گئے-

“خیریت ہے؟ آپ اتنے گھبراۓ ہوئے کیوں ہیں – کوئی گڑبڑ ہو گئی ؟”

“اندر لڈن بیٹھا ہے اور مجھے فکر که که کر صلواتیں سنا رہا ہے”

“وہ تو بہوت گڑبڑ آدمی ہے- “

عاصم صاحب انکے ساتھ واپس لوٹ گئے اور کہا،” چلئے میں بھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں – آپ کے گھر کی چاۓ بہوت اچھی ہوتی ہے-“

ایسا لگا عاصم صاحب بھی لڈن سے بچ کر نکلنا چاہ رہے تھے –

مرا د علی فکر نے سبزی کی دکان پر رک کر سبزی والے سے کہا ،”بھیا ، یہ دوانی لو اور تھیلے میں ڈیڑھ پاؤ آلو اور ایک پاؤ بیگن ڈال دو -“

“اس میں تو ایک ایک پاؤ ہی آئیں گے، آلو اور بیگن -” اس نے دوانی لیتے ہوئے کہا-

“لیکن میری بیوی نے تو یہ ہی کہا تھا-“

عاصم صاحب بیچ میں بولے،”بھاؤ تاؤ میں گڑبڑ کرنا ان لوگوں کا کام ہے-“

“دیکھیں گڑبڑ صاحب، آپ کو دیکھ کر ہم بھاؤ بھول جاتے ہیں اور تاؤ آ جاتا ہے – آپ خود تو  سبزی اس کنجڑے سے لیتے ہیں جو خراب اور باسی سبزی سستی بیچتا ہے”

” ہم کو سکھاتے ہو بھاؤ تاؤ ؟ ابھی تمہارے اس گاہک کو کھینچ کر لے جاؤں گا – اور تم یہ گڑبڑ باتیں کیوں کرتے ہو؟ ہم جہاں سے بھی خریدیں -“

فکر صاحب نے  مصالحتا ” کہا ،”ٹھیک ہے، ایک ایک ہی پاؤ دے دو- اور تھوڑا سا ہرا دھنیا اور دو تین ہری مرچ تو تم دیتے ہی ہو ،ساتھ میں “

“اب بیگن آلو میں ہر دھنیا کون ڈالتا ہے صاحب- ویسے بھی سردیاں شروع ہیں اور ہرا دھنیا بہوت  مہنگا ہے – اچھا لیجئے میں مرچ ڈال دیتا ہوں -” اس نے تھیلے میں آلو بیگن کے ساتھ دو تین مرچیں ڈالیں –

عاصم صاحب نے کچھ کہنا چاہا تو فکر نے ہاتھ سے روکا اور تھیلا لے کر آگے بڑھ گئے – عاصم صاحب چپکے چپکے چلتے رہے اور کہنے لگے،”آپ کہتے تو کہ دھنیے کی چٹنی اچھی بنتی ہے- اس طرح تو یہ لوگ ہمیشہ گڑبڑ کریں گے-“

جلد ہی گھر آ گیا اور فکر صاحب اندر چلے گئے- جب لوٹے تو انکے ہاتھوں میں دو اسٹول تھے- ایک پر خود ٹک  گئے اور دوسرے پر عاصم – اندر سے آواز آئی تو یہ چاۓ لے آے – ایک پیالی چاۓ پرچ میں رکھی تھی- عاصم صاحب پیالی لیتے ہوئے بولے،” اور آپ کی چاۓ ؟”

“میں ابھی ابھی ہوٹل سے پی کر آیا ہوں اور ذائقہ ابھی بھی تازہ ہے- ” لڈن کی بد تمیزی کو ذائقہ کہتے ہوئے وہ ذرا غمگین ہو گئے –

“یہ گڑبڑ ہم سے نہیں ہو گی کہ ہم اکیلے ہی چاۓ پئیں -” عاصم  صاحب نے پرچ میں دو گھونٹ چاۓ ڈال کر انہیں دی اور خود پیالی سے سڑپ سڑپ کر پینے لگے –

“یہ غزل مجھے خاص کر پسند ہے – رات نیند نہیں آ رہی تھی – جب غزل مکمل ہوئی تو گہری نیند سو گیا -” فکر چاۓ ختم کر کے بولے-

“اب یہ اس آدھی پیالی چاۓ کا معاوضہ وصول کرے گا ، اپنی گڑبڑ شاعری سنا سنا کر” عاصم  صاحب نے دل میں سوچا- اور بلند آواز میں کہا،” مجھے ایک ضروری کام یاد آ گیا ہے – غزل پھر سہی -“

“عرض کیا ہے” -“آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا”

“آپ کی بھابی کی طبیعت ذرا گڑبڑ ہے – وقت پر نہ پہونچا تو گڑبڑ ہو جائے گی”

“بس دو شعر سن لیجئے -“

“ارشاد”، کھڑے ہوتے ہوئے کہا-

“آپ تشریف تو رکھئے ” فکر صاحب نے اسٹول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا-

“جناب میں سن رہا ہوں – آپ ارشاد کیجئے “- وہ کھڑے رہے –

“عرض کیا ہے، رات کالی ہے اسے آپ کی زلفیں کہوں – ہاتھ انگڑائی کو اٹھیں انھیں شاخیں کہوں “

“واہ واہ – برگد کی یا امرود کی؟” عاصم صاحب شوخی سے بولے –

دوسرا شعر ہے- ” چلیے مانا کہ ہماری عرض ذ را لمبی ہے –

 زندگی کے چار دن ہیں میں انہیں راتیں کہوں “

 عاصم صاحب چہرے پر کرب لاتے ہوئے گویا ہوئے -” پہلے مصرعے میں وزن گڑبڑ ہے – ‘کہ’ کو ہٹا کر پڑھیں -“

 “چلئے مانا ہماری عرض ذ را لمبی ہے” فکر صاحب نے مشورہ مان لیا –

عاصم  صاحب نے پھر کہا -” دوسرا مصرع یوں ٹھیک ہو گا، آپ خاموش رہیں اور میں اسے باتیں کہوں “

“نہیں میرا  مصرع اچھا ہے” انہوں  نے عاصم صاحب کی تیزی سے دور ہوتی ہوئی پیٹھ کو مخاطب کیا ” تشریف لانے کا شکریہ -“

بعد میں انہوں نے عاصم صاحب کے  مصرعے کو بھی اپنا لیا –

—————————————————————————————————————————————————–


TASHREEF LANE KA SHUKRIA (ii)

Woh ek achhe shaayer the. Muraad Ali Fikr.

Ek muqami hotel mein khaamoshi se chai peene ki koshish kar rahe the aur chai peena dobhar ho raha tha. Ghar se sauda lene ke liye nikle to hotel mein ghus gaye k shayed yahan baithe log unki shayri sunne ki farmayesh Karen. Lekin yeh kya. Samne baitha hua Laddan to bas shuroo hi hogaya. Us ko Fikr sahib se Allah waaste ka bair tha. Unhein tang karne ka koi mauqa hath se nahin jane deta tha. Aaj to us ne had hi kar di. Kahne laga mujhe koi fikr nahin. Fikr ki to maaN ki ……

Alloo Khan theki waale ka yeh jawaan aur khoobroo beta arse se dimaghi khalal mein mubtila tha. Bahot ilaj karaya, masjid mein duayein karayin, lekin who bas ayesa hi raha. Poora pagal bhi nahin tha. Bas subha se sham tak phirta rahta, aane jane walon se ya khud se be matlab kalaam karta, hotel mein apne musahebon ke sath waqt guzarta. Zara zara si bat par marne marne par utar aata aur Fikr sahib ko tang karma uska mahboob mashghala tha.

Ek baar sardion ki shaam jab dukanen band ho gayeen aur dukanon ke takhton par ja baja baithe obaash ladke khushgappion mein mashghool the to ek taraf se awaz aayi,

“Jo de us ka bhi bhala, jo na de us ka bhi bhala, thak, thak, thak”

“Koi Allah ka banda ek bidi pilwa de, thak, thak…..”

Yeh Hafiz Ji the, apni laathi khatkate nange paaon is sardi mein geeli sadak par ek taraf aahista aahista chale ja rahe the. Boonda baandi ho rahi thi. Andhere ka raaj tha aur committee ke khamboN se kamzor aur peeli roshni chatak rhi thi. Laddan ne ek ladke ko ikanni di ke jakar Hafiz ji ki jeb mein daal de aur jeb se ek bidi nikal laye. Dukanen band theeN aur bidi cigarette khatm ho gayi  thi.Tajarbe se unhen maloom tha k Hafiz ji kis jeb mein bhjwayi hui bidi rakhte hain. Ladke ke haton ko mahsoos karke Hafiz ji ne duayen dena shuroo kar deen aur uske jaane ke baad jeb tatoli to paya ke ikanni to thi lekin iklauti bidi ghayeb thi. Duaayen ab mughallezaat mein badal gayin. Unka aakhr e shab bidi ka shughal khatre mein pad gaya tha.Haarchand k ek aane mein bees biDiyan milti thi, lekin rat ke waqt, sardi mein akhri biDi ki qeemat woh hi janta hai jo peeta hai.

Udhar Laddan ne bidi jalayi aur masti meiN kash leta hua sadak par aa gaya. Boonda baandi to ho rahi thi, ek boond taak kar us ki jalti bidi ko bujha gayi. Sardion ki boondein badi aur bhaari hoti haiN. Ab jo Laddan ne us kambakht boond ko galiaN dena shuroo kiya hai to deta hi gaya. Is Sali boond ko saari duniya mein ek yahi jagh rah gayi thi, meri bidi ka jalta hua kinara? Is ki to maaN ki……….. ghantoN bas who isi par laga raha, Hafiz ji ja chuke the. Aasim sahib na jaane kahaN se aa nikle. Maloon karne par ladkon ne sara qissa suna dia. Woh bole “yeh to badi gadbad ho gayi. Woh boond badi hi gadbad ho gi . Hafiz ji ke saath bhi bahot gadbad ki tum logon ne.” Unhoon ne Laddan ko ek bidi pesh ki to woh thanda hua.

Yehi Laddan aaj Fikr sahib ko ek tarah se lataaD raha tha. Mujhe fikr ki kya zaroorat, mujhe kisi baat ki fikr nahin hai, mein fikr par hazar lanat bhejta hoon, fikr ki bahen,….. Fikr ki maan……

Achanak Fikr sahib uth gaye. Unse aur na suna gaya. Aadhi chaye gilaas mein ab bhi rah gayi thi aur thandi ho gayi thi. Hotel ke ladke ne gilaas utha kar ghata ghat ek hi sans mein who thandi chaye pee dali aur jate hue Fikr sahib ko dekha, phir counter per khade maalik ko dekha. Hotel ka maalik Riaz sab dekh aur sun raha tha. Usne ladke ko ishaara kiya: koi baat nahin, Fikr sahib paise baad mein de den ge, jaane do.

Baahar seediyon par Asim sahib mil gaye. “Khairat hai? Aap itne ghabraye hue kyoon hain? Koi gad bad ho gayi?”

“Andar Laddan baitha hai aur mujhe fikr kah kah kar salawatein suna raha hai”

“woh to bahot gad bad aadmi hai” woh un ke saath wapas laot gaye aur kaha,”chaliye main bhi aap ke saath chalta huN. Aap ke ghar ki chai bahot achhi hoti hai” Aisa laga Asim sahib bhi Laddan se bach kar chalna chaah rahe the.

Muraad Ali Fikr ne sabzi ki dukan par ruk kar sabzi wale se kaha,”Bhayya yeh duanni lo aur thaile mein derh pao aaloo aur ek pao baigan daal do”.

“Is mein to ek ek pao hi ayen ge aaloo aur baigan.” Us ne duanni lete hue kaha.

“lekin meri biwi ne to yeh hi kaha tha”

Asim sahib beech mein bole,” bhaao taao mein gad bad karma in logon ka kaam hai”

“DekheN gad bad sahib, aap ko dekh kar ham bhaao bhool jaate hain aur taao aa jata hai. Aap khud to sabzi us kunjde se lete hain jo kharaab aur baasi sabzi sasti bechta hai.”

“Ham ko sikhaate ho bhao tao. Abhi tumhare is gaahak ko kheench kar le jaoon ga. Aur yeh tum gad bad batien kyoon karte ho. Ham jahan se bhi khareedeN.”

Fikr sahib ne musalehatan kaha,” Theek hai ek ek hi pao de do, Aur thoda sa hara dhaniya aur do teen hari mirch to tum dete hi ho, saath mein”.

“Ab baigan aalo mein hara dhaniya kaun dalta hai sahib. Waise bhi sardiyan shuroo hain aur hara dhaniya bahot mahnga hai. Achha lijiye hari mirch dal deta hoon” Usne thaile mein aalo baigan ke saath do-teen mirchen daliN.

Asim sahib ne kuchh kahna chaha to Fikr ne haath se roka aur thaila lekar aage barh gaye. Asim sahib chipke chipke chalet rahe aur kahne lage, “aap kahte to k dhaniya ki chatni achhi banti hai. Is tarah to yeh log hamesha gad bad Karen ge”.

Jald hi ghar aa gaya aur Fikr sahib andar chale gaye. Jab laute to unke haath mein do stool the. Ek par khud tik gaye aur doosre par Asim. Andar se awaz aayi to yeh chaaye le aye. Ek piyali chaaye pirach mein rakhi thi. Asim sahib piyali lete hue bole,       “Aur aap ki chaaye?”

“Main abhi abhi hotel se pi kar aya huN, aur zaeqa abhi bhi taaza hai”  Laddan ki bad tameezi ko zaeqa kahate hue who zara ghamgeen ho gaye.

“Yeh gad bad mujh se nahin ho gi ke ham akele hi chaaye piyeN” Asim sahib ne pirach mein do ghoont chaaye daal kar unhen di aur khud piyali se suDap suDap kar peene laage.”

“Yeh ghazal mujhe khas taur par pasand hai. Raat neend nahin aa rahi thi. Jab ghazal mukammal hui to gahree neend so gaya.” Fikr chaaye khatm kar ke bole.

“Ab yeh is aadhi piyali chaye ka muawza wasoole ga, apni gad bad shayri suna suna kar” Asim sahib ne dil mein socha aur buland awaaz mein kaha,” mujhe ek zaroori kaam yad aa gaya hai. Gazal phir sahi.”

“Arz kiya hai,” “aap ka ziadah waqt nahiN loon ga”

“aap ki bhabhi ki tabiyat zara gad bad hai. Waqt pe na pahoncha to gad bad ho jaye gi”

“bas do sher sun lijiye”

“Irshad”, khare hote hue kaha

“Aap tashreef to rakhye”, Fikr sahib ne stool ki taraf ishara karte hue kaha.

“Janab main sun raha hun. Aap irshad kijiye”, who khaDe rahe.

Arz kiya hai,“raat kaali hai ise aap ki zulfeN kahoooN

“haath angDaayi ko uthen unheN shaakhen kahooN.”

“wah wah. bargad ki ya amrood ki?” Asim sahib shokhi se bole.

“doosra sher hai,” “chaliye maana ke hamari arz zara lambi hai”

“chaliye maana ke hamari arz zara lambi hai,

zindagi ke char din hain main unheiN raaten kahooN.

Asim sahib chehre par karb late hue goya hue,“Pahle misre mein wazan gadbad hai. Ke ko hata kar padheN”

“chaliye maana hamari arz zara lambi kai”, Fikr sahib ne mashwara maan liya.

Asim sahib ne phir kaha, “doosra misra yoon theek hoga”, “aap khamosh rahein aur main ise baaten kahooN.”

“Nahin mera misra achha hai.” Unhoon ne Asim sahib ki tezi se door hoti hui peeth ko mukhatib kiya. “Tashreef lane ka shukria”.

Baad mein unhoon ne Asim sahib ka misra bhi apnaa liya.

Advertisements
 
3 Comments

Posted by on September 30, 2013 in adab and literature, LIFE'S GREAT MOMENTS

 

Tags: , , , , , , , , , , , , , , , , ,

3 responses to “TASHREEF LAANE KA SHUKRIA (ii)

  1. Rafiullah Mian

    October 1, 2013 at 9:19 pm

    Bohot hi khoob likha hay. aap ka andaz-e-byaan bara dilnasheen hay.
    Ab tu ap jitni jald hosakay is book ko complete kar k hi dam lain.
    Lekin ak nukta hay : ap ki ye kitab ap k Gaon k halaat aor kirdaaroN par mushtamil hay — is main farzi kirdaar (gaRbaR) kahan tak munasib rahega? ye zaroor sochain!

     
    • shakilakhtar

      October 2, 2013 at 11:43 am

      Rafi sahib, shukria hausla afzaayi ka. Aap ne theek kaha. garbar sahib garbar kar sakte hain. kitaab agar kabhi chhapi to dekhen ge ke kya kiya jaye. asl mein shuroo ke teen posts bayaniya andaz mein hain aur yeh do kahani ki soorat mein. baad mein sochen ge insha Allah. aap dua karen.

       
      • Rafiullah Mian

        October 2, 2013 at 11:20 pm

        G bilkul — Insha’allah is ka bhi koi hal nikal aayega, ye itna vada masla nahi hay 🙂
        Ap k liye aor ap ki coming book k liye dheroN naik tamannayiN

         

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: