RSS

Monthly Archives: September 2013

TASHREEF LAANE KA SHUKRIA (ii)

forpeace6

click here to join blogger for peace.

……………………………………………………………………………………………………………………………

=======================================================================

Apart from Mr. GaRbaR, all the other characters are real and lived the scenes described here.

The Roman version is at the end.

a sequence to “TASHREEF LANE KA SHUKRIA (I) at

https://shakilakhtar.wordpress.com/2013/09/23/tashreef-lane-ka-shukria-i/

TASHREEF LAANE KA SHUKRIA (ii)

وہ ایک اچھے شاعر تھے – مراد علی  فکر صاحب –

ایک مقامی ہوٹل میں خاموشی سے چاۓ پینے کی  کوشش کر رہے تھے اور چاۓ پینا دوبھر ہو رہا تھا-

گھر سے سودا لینے کے لئے نکلے تو ہوٹل میں گھس گئے کہ شاید یہاں بیٹھے لوگ انکی شاعری سننے کی فرمایش کریں- لیکن یہ کیا؟ سامنے بیٹھا ہوا لڈ ن تو بس شروع ہی ہو گیا -اس کو فکر صاحب سے   الله واسطے کا بیر تھا- انھیں تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا- آج تو اس نے حد ہی کر دی – کہنے لگا،” مجھے کوئی فکر نہیں- فکر کی تو ماں کی ……..”

الو خاں ٹھیکی  والے کا یہ جوان اور خوبرو بیٹا عرصے سے دماغی خلل میں مبتلا تھا – بہوت علاج کرایا مسجد میں دعائیں کرایں ،لیکن وہ ایسا ہی رہا – پورا پاگل بھی نہیں تھا – بس صبح سے شام تک پھرتا رہتا ، آنے جانے والوں سے یا خود سے بے مطلب کلام کرتا ، ہوٹل میں اپنے مصاحبوں کے ساتھ وقت گزارتا – ذرا ذرا سی بات پر مرنے مارنے پر اتر آتا – اور فکر صاحب کو تنگ کرنا اسکا محبوب مشغلہ تھا-

ایک بار سردیوں کی شام جب دکانیں بند ہو گئیں اور دکانوں کے تختوں پر جا بجا اوباش لڑکے خش گپیوں میں مشغول تھے، ایک طرف سے آواز آیی ،
“جو دے اسکا بھی بھلا ، جو نہ دے اسکا بھی بھلا ٹھک ،ٹھک، ٹھک”
“کوئی اللہ کا بندہ ایک بیڑی پلوا دے ،ٹھک،ٹھک”
یہ حافظ جی تھے- اپنی لاٹھی ٹھک ٹھکا تے ہوئے ننگے پاؤں اس سردی میں گیلی سڑک  پر ایک طرف آہستہ آہستہ چلے جا رہے تھے – بوندہ باندی ہو رہی تھی -اندھیرے کا راج تھا اور کمیٹی کے کھمبوں سے کمزور اور پیلی روشنی چھٹک رہی تھی-
لڈن نے ایک لڑکے کو اکنی دی کہ جا  کر حافظ جی کی جیب میں ڈا ل دے  اور جیب  سے ایک بیڑی  نکا ل لاے – دوکانیں بند تھیں اور بیڑی سگریٹ ختم ہو گئی تھیں – تجربے سے انھیں معلوم تھا ک حافظ جی کس جیب  میں بھجوایی گئی  بیڑی رکھتے ہیں –

لڑکے کے ہاتھوں کو محسوس کر کے حافظ جی نے دعائیں دینا شروع کر دیں – اور اسکے جانے کے بعد جیب ٹٹولی تو پایا کہ اکنی تو تھی لیکن اکلوتی بیڑی غایب تھی- دعائیں اب مغلذات میں بدل گئیں – انکا آخر_شب بیڑی کا شغل خطرے میں پڑ گیا تھا- ہرچند کہ ایک آنے میں بیس بیڑیاں ملتی تھیں لیکن رات کے وقت آخری بیڑی کی قیمت وہ ہی جانتا ہے جو پیتا ہے-

ادھر لڈن نے بیڑی جلائی اور مستی میں کش لیتا ہوا سڑک پر آ گیا – بوندا باندی تو ہو رہی تھی ، ایک بوند تاک کر اسکی جلتی بیڑی کو بجھا گئی – سردیوں کی بوندیں بڑی اور بھاری ہوتی ہیں – اب جو لڈن نے  اس کمبخت بوند کو گالیاں دینا شروع کیا ہے تو دیتا ہی گیا – اس سالی بوند کو ساری دنیا میں ایک یہ ہی جگہ رہ گئی تھی ، میری بیڑی کا جلتا ہوا کنارہ؟ اس کی تو ماں کی ….گھنٹوں وہ بس اسی پر لگا رہا –

حافظ جی جا چکے تھے- عاصم صاحب نہ جانے کہاں ے سے آ نکلے- معلوم کرنے پر لڑکوں نے قصّہ سنا دیا – وہ بولے ،”یہ تو بڑی گڑبڑ ہو گئی – وہ بوند بڑی ہی گڑبڑ ہو گی – حافظ جی کے ساتھ بھی بڑی گڑبڑ کی تم لوگوں نے “- انہوں نے لڈن کو ایک بیڑی پیش کی تو وہ ٹھنڈا ہوا –

یہ ہی لڈن آج فکر صاحب کو ایک طرح سے لتاڑ رہا تھا- مجھے فکر کی کیا ضرورت – مجھے کسی بات کی فکر نہیں – میں فکر پر ہزار لعنت بھیجتا ہوں – فکر کی بہن ……… فکر کی ماں ……….

اچانک فکر صاحب اٹھ گئے- انسے اور نہ سنا گیا – آدھی چاۓ گلاس میں اب بھی رہ گئی تھی اور ٹھنڈی ہو گئی تھی- ہوٹل کے لڑکے نے گلاس اٹھا کر غٹا غٹ ایک ہی سانس میں وہ ٹھنڈی چاۓ پی ڈالی اور جاتے ہوئے فکر صاحب کو دیکھا ، پھر کاؤنٹر پر کھڑے مالک کو دیکھا- ہوٹل کا مالک ریاض سب دیکھ اور سن رہا تھا – اس نے لڑکے کو اشارہ کیا: کوئی بات نہیں- فکر صاحب پیسے بعد میں دے دیں گے- جانے دو-

باہر سیڑھیوں پر عاصم صاحب مل گئے-

“خیریت ہے؟ آپ اتنے گھبراۓ ہوئے کیوں ہیں – کوئی گڑبڑ ہو گئی ؟”

“اندر لڈن بیٹھا ہے اور مجھے فکر که که کر صلواتیں سنا رہا ہے”

“وہ تو بہوت گڑبڑ آدمی ہے- “

عاصم صاحب انکے ساتھ واپس لوٹ گئے اور کہا،” چلئے میں بھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں – آپ کے گھر کی چاۓ بہوت اچھی ہوتی ہے-“

ایسا لگا عاصم صاحب بھی لڈن سے بچ کر نکلنا چاہ رہے تھے –

مرا د علی فکر نے سبزی کی دکان پر رک کر سبزی والے سے کہا ،”بھیا ، یہ دوانی لو اور تھیلے میں ڈیڑھ پاؤ آلو اور ایک پاؤ بیگن ڈال دو -“

“اس میں تو ایک ایک پاؤ ہی آئیں گے، آلو اور بیگن -” اس نے دوانی لیتے ہوئے کہا-

“لیکن میری بیوی نے تو یہ ہی کہا تھا-“

عاصم صاحب بیچ میں بولے،”بھاؤ تاؤ میں گڑبڑ کرنا ان لوگوں کا کام ہے-“

“دیکھیں گڑبڑ صاحب، آپ کو دیکھ کر ہم بھاؤ بھول جاتے ہیں اور تاؤ آ جاتا ہے – آپ خود تو  سبزی اس کنجڑے سے لیتے ہیں جو خراب اور باسی سبزی سستی بیچتا ہے”

” ہم کو سکھاتے ہو بھاؤ تاؤ ؟ ابھی تمہارے اس گاہک کو کھینچ کر لے جاؤں گا – اور تم یہ گڑبڑ باتیں کیوں کرتے ہو؟ ہم جہاں سے بھی خریدیں -“

فکر صاحب نے  مصالحتا ” کہا ،”ٹھیک ہے، ایک ایک ہی پاؤ دے دو- اور تھوڑا سا ہرا دھنیا اور دو تین ہری مرچ تو تم دیتے ہی ہو ،ساتھ میں “

“اب بیگن آلو میں ہر دھنیا کون ڈالتا ہے صاحب- ویسے بھی سردیاں شروع ہیں اور ہرا دھنیا بہوت  مہنگا ہے – اچھا لیجئے میں مرچ ڈال دیتا ہوں -” اس نے تھیلے میں آلو بیگن کے ساتھ دو تین مرچیں ڈالیں –

عاصم صاحب نے کچھ کہنا چاہا تو فکر نے ہاتھ سے روکا اور تھیلا لے کر آگے بڑھ گئے – عاصم صاحب چپکے چپکے چلتے رہے اور کہنے لگے،”آپ کہتے تو کہ دھنیے کی چٹنی اچھی بنتی ہے- اس طرح تو یہ لوگ ہمیشہ گڑبڑ کریں گے-“

جلد ہی گھر آ گیا اور فکر صاحب اندر چلے گئے- جب لوٹے تو انکے ہاتھوں میں دو اسٹول تھے- ایک پر خود ٹک  گئے اور دوسرے پر عاصم – اندر سے آواز آئی تو یہ چاۓ لے آے – ایک پیالی چاۓ پرچ میں رکھی تھی- عاصم صاحب پیالی لیتے ہوئے بولے،” اور آپ کی چاۓ ؟”

“میں ابھی ابھی ہوٹل سے پی کر آیا ہوں اور ذائقہ ابھی بھی تازہ ہے- ” لڈن کی بد تمیزی کو ذائقہ کہتے ہوئے وہ ذرا غمگین ہو گئے –

“یہ گڑبڑ ہم سے نہیں ہو گی کہ ہم اکیلے ہی چاۓ پئیں -” عاصم  صاحب نے پرچ میں دو گھونٹ چاۓ ڈال کر انہیں دی اور خود پیالی سے سڑپ سڑپ کر پینے لگے –

“یہ غزل مجھے خاص کر پسند ہے – رات نیند نہیں آ رہی تھی – جب غزل مکمل ہوئی تو گہری نیند سو گیا -” فکر چاۓ ختم کر کے بولے-

“اب یہ اس آدھی پیالی چاۓ کا معاوضہ وصول کرے گا ، اپنی گڑبڑ شاعری سنا سنا کر” عاصم  صاحب نے دل میں سوچا- اور بلند آواز میں کہا،” مجھے ایک ضروری کام یاد آ گیا ہے – غزل پھر سہی -“

“عرض کیا ہے” -“آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا”

“آپ کی بھابی کی طبیعت ذرا گڑبڑ ہے – وقت پر نہ پہونچا تو گڑبڑ ہو جائے گی”

“بس دو شعر سن لیجئے -“

“ارشاد”، کھڑے ہوتے ہوئے کہا-

“آپ تشریف تو رکھئے ” فکر صاحب نے اسٹول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا-

“جناب میں سن رہا ہوں – آپ ارشاد کیجئے “- وہ کھڑے رہے –

“عرض کیا ہے، رات کالی ہے اسے آپ کی زلفیں کہوں – ہاتھ انگڑائی کو اٹھیں انھیں شاخیں کہوں “

“واہ واہ – برگد کی یا امرود کی؟” عاصم صاحب شوخی سے بولے –

دوسرا شعر ہے- ” چلیے مانا کہ ہماری عرض ذ را لمبی ہے –

 زندگی کے چار دن ہیں میں انہیں راتیں کہوں “

 عاصم صاحب چہرے پر کرب لاتے ہوئے گویا ہوئے -” پہلے مصرعے میں وزن گڑبڑ ہے – ‘کہ’ کو ہٹا کر پڑھیں -“

 “چلئے مانا ہماری عرض ذ را لمبی ہے” فکر صاحب نے مشورہ مان لیا –

عاصم  صاحب نے پھر کہا -” دوسرا مصرع یوں ٹھیک ہو گا، آپ خاموش رہیں اور میں اسے باتیں کہوں “

“نہیں میرا  مصرع اچھا ہے” انہوں  نے عاصم صاحب کی تیزی سے دور ہوتی ہوئی پیٹھ کو مخاطب کیا ” تشریف لانے کا شکریہ -“

بعد میں انہوں نے عاصم صاحب کے  مصرعے کو بھی اپنا لیا –

—————————————————————————————————————————————————–


TASHREEF LANE KA SHUKRIA (ii)

Woh ek achhe shaayer the. Muraad Ali Fikr.

Ek muqami hotel mein khaamoshi se chai peene ki koshish kar rahe the aur chai peena dobhar ho raha tha. Ghar se sauda lene ke liye nikle to hotel mein ghus gaye k shayed yahan baithe log unki shayri sunne ki farmayesh Karen. Lekin yeh kya. Samne baitha hua Laddan to bas shuroo hi hogaya. Us ko Fikr sahib se Allah waaste ka bair tha. Unhein tang karne ka koi mauqa hath se nahin jane deta tha. Aaj to us ne had hi kar di. Kahne laga mujhe koi fikr nahin. Fikr ki to maaN ki ……

Alloo Khan theki waale ka yeh jawaan aur khoobroo beta arse se dimaghi khalal mein mubtila tha. Bahot ilaj karaya, masjid mein duayein karayin, lekin who bas ayesa hi raha. Poora pagal bhi nahin tha. Bas subha se sham tak phirta rahta, aane jane walon se ya khud se be matlab kalaam karta, hotel mein apne musahebon ke sath waqt guzarta. Zara zara si bat par marne marne par utar aata aur Fikr sahib ko tang karma uska mahboob mashghala tha.

Ek baar sardion ki shaam jab dukanen band ho gayeen aur dukanon ke takhton par ja baja baithe obaash ladke khushgappion mein mashghool the to ek taraf se awaz aayi,

“Jo de us ka bhi bhala, jo na de us ka bhi bhala, thak, thak, thak”

“Koi Allah ka banda ek bidi pilwa de, thak, thak…..”

Yeh Hafiz Ji the, apni laathi khatkate nange paaon is sardi mein geeli sadak par ek taraf aahista aahista chale ja rahe the. Boonda baandi ho rahi thi. Andhere ka raaj tha aur committee ke khamboN se kamzor aur peeli roshni chatak rhi thi. Laddan ne ek ladke ko ikanni di ke jakar Hafiz ji ki jeb mein daal de aur jeb se ek bidi nikal laye. Dukanen band theeN aur bidi cigarette khatm ho gayi  thi.Tajarbe se unhen maloom tha k Hafiz ji kis jeb mein bhjwayi hui bidi rakhte hain. Ladke ke haton ko mahsoos karke Hafiz ji ne duayen dena shuroo kar deen aur uske jaane ke baad jeb tatoli to paya ke ikanni to thi lekin iklauti bidi ghayeb thi. Duaayen ab mughallezaat mein badal gayin. Unka aakhr e shab bidi ka shughal khatre mein pad gaya tha.Haarchand k ek aane mein bees biDiyan milti thi, lekin rat ke waqt, sardi mein akhri biDi ki qeemat woh hi janta hai jo peeta hai.

Udhar Laddan ne bidi jalayi aur masti meiN kash leta hua sadak par aa gaya. Boonda baandi to ho rahi thi, ek boond taak kar us ki jalti bidi ko bujha gayi. Sardion ki boondein badi aur bhaari hoti haiN. Ab jo Laddan ne us kambakht boond ko galiaN dena shuroo kiya hai to deta hi gaya. Is Sali boond ko saari duniya mein ek yahi jagh rah gayi thi, meri bidi ka jalta hua kinara? Is ki to maaN ki……….. ghantoN bas who isi par laga raha, Hafiz ji ja chuke the. Aasim sahib na jaane kahaN se aa nikle. Maloon karne par ladkon ne sara qissa suna dia. Woh bole “yeh to badi gadbad ho gayi. Woh boond badi hi gadbad ho gi . Hafiz ji ke saath bhi bahot gadbad ki tum logon ne.” Unhoon ne Laddan ko ek bidi pesh ki to woh thanda hua.

Yehi Laddan aaj Fikr sahib ko ek tarah se lataaD raha tha. Mujhe fikr ki kya zaroorat, mujhe kisi baat ki fikr nahin hai, mein fikr par hazar lanat bhejta hoon, fikr ki bahen,….. Fikr ki maan……

Achanak Fikr sahib uth gaye. Unse aur na suna gaya. Aadhi chaye gilaas mein ab bhi rah gayi thi aur thandi ho gayi thi. Hotel ke ladke ne gilaas utha kar ghata ghat ek hi sans mein who thandi chaye pee dali aur jate hue Fikr sahib ko dekha, phir counter per khade maalik ko dekha. Hotel ka maalik Riaz sab dekh aur sun raha tha. Usne ladke ko ishaara kiya: koi baat nahin, Fikr sahib paise baad mein de den ge, jaane do.

Baahar seediyon par Asim sahib mil gaye. “Khairat hai? Aap itne ghabraye hue kyoon hain? Koi gad bad ho gayi?”

“Andar Laddan baitha hai aur mujhe fikr kah kah kar salawatein suna raha hai”

“woh to bahot gad bad aadmi hai” woh un ke saath wapas laot gaye aur kaha,”chaliye main bhi aap ke saath chalta huN. Aap ke ghar ki chai bahot achhi hoti hai” Aisa laga Asim sahib bhi Laddan se bach kar chalna chaah rahe the.

Muraad Ali Fikr ne sabzi ki dukan par ruk kar sabzi wale se kaha,”Bhayya yeh duanni lo aur thaile mein derh pao aaloo aur ek pao baigan daal do”.

“Is mein to ek ek pao hi ayen ge aaloo aur baigan.” Us ne duanni lete hue kaha.

“lekin meri biwi ne to yeh hi kaha tha”

Asim sahib beech mein bole,” bhaao taao mein gad bad karma in logon ka kaam hai”

“DekheN gad bad sahib, aap ko dekh kar ham bhaao bhool jaate hain aur taao aa jata hai. Aap khud to sabzi us kunjde se lete hain jo kharaab aur baasi sabzi sasti bechta hai.”

“Ham ko sikhaate ho bhao tao. Abhi tumhare is gaahak ko kheench kar le jaoon ga. Aur yeh tum gad bad batien kyoon karte ho. Ham jahan se bhi khareedeN.”

Fikr sahib ne musalehatan kaha,” Theek hai ek ek hi pao de do, Aur thoda sa hara dhaniya aur do teen hari mirch to tum dete hi ho, saath mein”.

“Ab baigan aalo mein hara dhaniya kaun dalta hai sahib. Waise bhi sardiyan shuroo hain aur hara dhaniya bahot mahnga hai. Achha lijiye hari mirch dal deta hoon” Usne thaile mein aalo baigan ke saath do-teen mirchen daliN.

Asim sahib ne kuchh kahna chaha to Fikr ne haath se roka aur thaila lekar aage barh gaye. Asim sahib chipke chipke chalet rahe aur kahne lage, “aap kahte to k dhaniya ki chatni achhi banti hai. Is tarah to yeh log hamesha gad bad Karen ge”.

Jald hi ghar aa gaya aur Fikr sahib andar chale gaye. Jab laute to unke haath mein do stool the. Ek par khud tik gaye aur doosre par Asim. Andar se awaz aayi to yeh chaaye le aye. Ek piyali chaaye pirach mein rakhi thi. Asim sahib piyali lete hue bole,       “Aur aap ki chaaye?”

“Main abhi abhi hotel se pi kar aya huN, aur zaeqa abhi bhi taaza hai”  Laddan ki bad tameezi ko zaeqa kahate hue who zara ghamgeen ho gaye.

“Yeh gad bad mujh se nahin ho gi ke ham akele hi chaaye piyeN” Asim sahib ne pirach mein do ghoont chaaye daal kar unhen di aur khud piyali se suDap suDap kar peene laage.”

“Yeh ghazal mujhe khas taur par pasand hai. Raat neend nahin aa rahi thi. Jab ghazal mukammal hui to gahree neend so gaya.” Fikr chaaye khatm kar ke bole.

“Ab yeh is aadhi piyali chaye ka muawza wasoole ga, apni gad bad shayri suna suna kar” Asim sahib ne dil mein socha aur buland awaaz mein kaha,” mujhe ek zaroori kaam yad aa gaya hai. Gazal phir sahi.”

“Arz kiya hai,” “aap ka ziadah waqt nahiN loon ga”

“aap ki bhabhi ki tabiyat zara gad bad hai. Waqt pe na pahoncha to gad bad ho jaye gi”

“bas do sher sun lijiye”

“Irshad”, khare hote hue kaha

“Aap tashreef to rakhye”, Fikr sahib ne stool ki taraf ishara karte hue kaha.

“Janab main sun raha hun. Aap irshad kijiye”, who khaDe rahe.

Arz kiya hai,“raat kaali hai ise aap ki zulfeN kahoooN

“haath angDaayi ko uthen unheN shaakhen kahooN.”

“wah wah. bargad ki ya amrood ki?” Asim sahib shokhi se bole.

“doosra sher hai,” “chaliye maana ke hamari arz zara lambi hai”

“chaliye maana ke hamari arz zara lambi hai,

zindagi ke char din hain main unheiN raaten kahooN.

Asim sahib chehre par karb late hue goya hue,“Pahle misre mein wazan gadbad hai. Ke ko hata kar padheN”

“chaliye maana hamari arz zara lambi kai”, Fikr sahib ne mashwara maan liya.

Asim sahib ne phir kaha, “doosra misra yoon theek hoga”, “aap khamosh rahein aur main ise baaten kahooN.”

“Nahin mera misra achha hai.” Unhoon ne Asim sahib ki tezi se door hoti hui peeth ko mukhatib kiya. “Tashreef lane ka shukria”.

Baad mein unhoon ne Asim sahib ka misra bhi apnaa liya.

 
3 Comments

Posted by on September 30, 2013 in adab and literature, LIFE'S GREAT MOMENTS

 

Tags: , , , , , , , , , , , , , , , , ,

TASHREEF LANE KA SHUKRIA (I)

“This should have been part IV of my series of posts,”SHAHJAHANPUR LIFE i,ii,iii

 It is different in that it features a unique character called Mr. gaRbaR and it is in Urdu. This is as it was in the 50’s in Shahjahanpur. Roman part is at the end

ہمارے موحلے میں عاصم صا حب بڑی ہی دلچسپی کا سامان مہیا کرتے تھے  –  لفظ ‘گڑبڑ’ کو ہر جگہ اور ہر موقے پر استمال کرنے کی عادت کی  وجہ سے انکا نام ہی گڑبڑ پڑ گیا تھا –

 ایک بار کا  ذکر ہے ہمارے یہاں ایک تقریب میں سارا محلّہ مدّعو تھا – لوگ دس بارہ چار پایوں پر لدے  بیٹھے تھے – ہر چار پآیی پر ایک الگ ہی بحث چھڑی ہوی تھی بجز ایک کے جس پر عاصم صاحب تشریف فرما تھے – عاصم صاحب خاموشی سے سر جھکاے ایک ہاتھ سے اپنی شیروانی کے بٹن اوپر سے نیچے تک بار بار یا  تو گن رہے  تھے یا یہ معلوم کرنے کی کوشش میں تھے کے آیا کوئی بٹن ٹوٹ تو نہیں گیا – انکی چا ر پآیی  پر بیٹھے ایک صاحب  انکو غور سے دیکھ رہےتھے اور باقی دو ایک دوسرے کی آنکھو میں آنکیں ڈالے  ہوئے تھے- اچانک وہ ہاتھ لہرا کر چلا یے ،”یہ آپ کیسی گڑ بڑ باتیں کر رہے ہیں “. انکا رخ برابر والی چارپایی کی طرف تھا-” اس طرح تو سارا معاشرہ ہی گڑ بڑ ہو جائے گا”

معلوم ہوا وہ مستقل برابر والی چارپایی کی گفتگو سن رہے تھے -انکی اپنی چارپایی سے ایک آواز اٹھی،”ارے گڑبڑ صاحب آپ نے تو ہمیں چونکا ہی دیا “-عاصم صاحب گرجے ،”دیکھئے جناب جمیل صاحب ہمیں عاصم کہتے ہیں اور آپ سے گزارش ہے کہ ہمیں گڑبڑ جیسے گڑبڑ الفاظ سے نہ بلایا کریں- کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے منہ سے آپ کی شان میں کچھ گڑبڑ نکل جائے- انکی اس تقریر کا یہ نتیجہ نکلا کہ  باقی کی تمام چارپایوں پر خاموشی چھا گیی- اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ مولوی صاحب کی نپی تلی اور متوازی آواز سنایی دینے لگی-،”بیٹا کہو بسم ا للہ”  –

عاصم صاحب تڑپ کر اٹھے اور لپک کر پلنگ پر جا بیٹھے -یہ پلنگ چار پاییوں  میں خاص تھا  کہ اس پر قالین بچھا تھا اور اس پر سفید چادر اور تکیہ تھا- اس پر محلے کے  معزز ترین لوگ تشریف فرما تھے: چیر مین صاحب اور انکے ایک دوست- یہ پلنگ ایسی جگہ پڑا تھا کہ باہر سے آنے والے  سارے مہمان اس کے پاس سے گزر کر چار پاییوں پر جا جا کر بیٹھتے رہے حتیٰ کہ یہ دونوں معزز ین  آے -انہیں گھر کے لوگوں نے بصد اسرار یہاں بیٹھنے کو کہا- سب مہمان تو اپنی انکساری اور اپنی اوقات کے مطابق پلنگ کے پاس سے ایسے گزرے جیسے انہیں اس سے کوئی مطلب نہیں -ہان البتہ عاصم  صاحب لمحہ بھر کو یہاں ٹھٹکے تھے لیکن جب کسی نے اسرار نہیں کیا تو آگے بڑھ گئے اور  ایک چار پآیی کی پٹی  پر ٹک  گئے-  -سارا وقت وہ کڑھتے رہے کہ  ان لوگوں نے ہم کو وہاں کیوں نہیں بٹھایا -اسی پلنگ کے متصل دالان کے ساتھ ایک چوبی تخت تھا جس پر چاند نی بچھی ہوئی تھی اور گاؤ تکیے کے ساتھ پانچ سالہ پپو میاں اوران کے سامنے مولوی صاحب بیٹھے تھے- لمبے سے دلان کے ہر در میں پردہ پڑا تھا اور پردے کے پیچھے سے عورتوں کی کڑاوں  کڑاوں آوازیں آ رہی تھیں – کسی نے ان کو بھی چپ رہنے کو که دیا-

 عاصم صاحب جاتے ہی پلنگ پر پیر اٹھا کر بیٹھ گئے اور پپو کو مخاطب کیا –

“بیٹا، جیسا مولوی صاحب کہیں ویسا کہو : بسم ا للہ”

خاموشی

“ارے دیکھو اگر تم نہیں کہو گے تو بہوت گڑبڑ ہو جائے گی ” انھوں نے غالبا” کھانے میں دیر ہونے کی طرف اشارہ کیا-

خاموشی

مولوی صاحب نے عاصم صاحب کی طرف کچھ اس طرح دیکھا جیسے که رہے ہوں :آپ بیچ میں نہ بولیں – پھرپپو سے مخاطب ہوئے ،”بس “

“بس”

“مل”

“مل”

“له”

“له “

 مبارک ہو  مبارک ہو ، چاروں طرف سے آواز آی – سب نے باری باری اٹھ کر پپو میاں کے سر پر ہاتھ پھیرا اور سلامی دی – آنا دو آنے روپیہ آٹھ آنے- چیر مین صاحب نے دس روپے کا نوٹ پیش کیا تو عاصم صاحب نے اپنی  دواننی واپس رکھ لی  اور اندر کی جیب سے روپے کا نوٹ نکالا- دل میں سوچا :پلنگ پر بیٹھنا بھاری پڑ گیا – سارا حساب گڑبڑ ہو گیا-

 عورتوں کی کڑاؤن کڑاؤن آوازیں پھر سے آنے لگیں اور لوگ بھی باتیں کرنے لگے- لالہ نے پپو میاں کو گود میں بھر کر اٹھا لیا- سہرے کی لٹیں انکے سر کے دونوں طرف لٹکنے لگیں -پلنگ پر سرہانے انکے لئے جگہ بنایی گیی – عاصم صاحب سرک کر پائتی پر ٹک گئے اور اپنی ٹانگیں لٹکا دیں –

اچانک عاصم  صاحب اٹھے اور پپو کے  سر پر ہاتھ پھرتے ہوئے اپنی پہلی والی جگہ کی طرف جانے لگے – اتنے میں کھانے  کا اعلان ہوا تو وہ الٹے پھر گئے اور صف پر بیٹھنے والے پہلے آدمی کہلاے –  سفید چادر کی صف کے دو رویا بیٹھے آدمیوں کے درمیان سے ایک سلپچی گزاری گیی جس میں سب نے ہاتھ دھوے – کسی نے دونوں ہاتھ تو کسی نے ایک ہاتھ ہی دھویا – کسی نے داہنے ہاتھ کی انگلیاں ہی بھگو لیں -ایک آدمی  لوٹے  سے پانی ڈالتا جاتا تو دوسرا پیچھے پیچھے تولیہ لٹکاے لٹکاے چلتا اور لوگ اپنے منہ کے سامنے لٹکے ہوئے تولیہ  سے ہاتھ پونچھتے جاتے- عاصم صاحب کی طرف سب  سے آخر میں جب سلپچی پہونچی تو وہ پانی سے بھر چکی تھی -انتظار کے بعد جب خالی سلپچی آیی تو انہوں نے انگلیاں ہی بھگوین اور تولیہ کو چھوڑ دیا کہ گڑبڑ ہو گیی ہے-

    کھانا برابر والے گھر میں پکایا گیا تھا – موحلے کے نایی جنہیں سب عزت سے خلیفہ جی کہتے تھے باورچی کا کام بھی کرتے تھے – انکی ہدایت میں باقی گھر کے لوگ مل جل کر کھانا تیار کر لیتے- دونوں گھروں کے درمیان والی دیوار میں ایک کھڑکی تھی – اس کے دونوں طرف آدمیوں کی قطار کھڑی ہو گیی اور د یگ سے صف تک ہاتھوں ہاتھ قاب اور رکاب آنے لگیں – قورمہ پلاؤ اور تازی تندوری روٹی کی خوشبویں سارے میں پھیل گیئں – جن کو پہلی صف میں جگہ نہیں ملی وہ اپنی جگہ پر بیٹھے اس خوشبو میں نہاتے رہے اور اپنی باری کا انتظار کرتے رہے –

 چیر مین صاحب کو پلنگ پر اور مولوی صاحب کو تخت پر کھانا پیش کیا گیا – مولوی صاحب کے برابر میں ایک طشتری میں انکا نیا جوڑا رکھا تھا جس کی تہوں سے پانچ روپے نوٹ جھانک رہا تھا-

عورتوں کے لئے دلان میں ہی صف بچھا دی گیی تھی –

پپو اپنا سہرہ تکیے پر پٹخ کر کب کے جا چکے تھے اور بچوں میں کھیل رہے تھے –

ایک بڑے سے ٹب میں پانی بھرا تھا جس میں برف کے بڑے بڑے ٹکڑے تیر رہے تھے- ٹھنڈا پانی جگوں میں بھر کر صف پر وقفے وقفے سے رکھا تھا اور ان کے ساتھ ہی کٹورے تھے-

میٹھے میں فیرنی مٹی کی طشتریوں میں تقسیم ہوئی  جسے انگلیوں سے کھایا گیا –

 ایک طرف ابا میاں بیٹھے حقہ پی رہے تھے – جانے سے پہلے عاصم صاحب ابا میاں سے ملنا  نہیں بھولے – بولے ،”شکر ہے الله کا کہ تقریب _بسم الله احسن طریقے سے تمام ہوئی اور کوئی گڑبڑ نہیں ہوئی “-

انہوں نے حقے کی نے منہ سے نکالی، اور کہا ،”گڑبڑ صاحب گڑبڑ کیا ہونا تھی. تشریف لانے کا شکریہ” عاصم صاحب باہر کی طرف لپکے –

(جاری ہے)

Acknowledgement (Mr GaRbaR is not my creation. I met him somewhere in Urdu adab. I only created the scenes here)

TASHREEF LANE KA SHUKRIA

(i)

Hamare mohalle mein Aasim sahib baDi hi dilchaspi ka saamaan muhayya karte the. Lafz gaRbaR ko har jagah aur har mauqe par istemaal karne ki aadat ki wajah se unka naam hi gaRbaR paR gaya tha.

Ek baar ka zikr hai hamaare yahan ek taqreeb mein sara muhallah muddaoo tha. Log das baarah chaarpaaiyyon par lade baithe the. Har chaarpaayi par ek alag hi bahes chiRi hui thi. Bajuz ek ke jis par Aasim sahib tashreef farma the. Aasim sahib khamoshi se sar jhukaaye ek haath se apni sherwaani ke batan ooper se neeche tak baar baar ya to gin rahe the ya yeh maaloom k arne ki koshish mein the aaya koi batan toot to naheen gaya. Unki charpaayi par baithe ek sahib un ko ghaur se dekh rahe the aur baaqi do ek doosre ki aankhon mein aankhen dale hue the.

Achanak Aasim sahib haath lahra kar chillaye, “Yeh aap kaisi gaRbaR baateiN kar rahe hain.” Unka rukh baraabar waali chaepaayi par tha. “Is tarah to saara muaashra hi gaRbaR ho jaaye ga”

Maloom hua woh mustaqil baraaber waali chaarpayi ki guftgoo sun rahe the. Unki apni chaarpayi se ek awaaz uthi,” are GaRbaR sahib, aap ne to hamen chaunka hi diya”. Asim sahib garje, “dekhiye janaab Jamil sahib, humein Asim kahte hain aur aap se guzarish hai ke humein garbar jaise garbar alfaz se na bulaya karen. Kahin aisa na ho ke hamaare munh se aap ki shaan mein kuch garbar nikal jaye” Unki is taqreer ka yeh nateeja nikla ke baaqi ki tamaam chaarpayion par khaamoshi chha gayi. Is ka ek faaidah yeh bhi hua ke maulwi sahib ki napi tuli aur mutawazi awaaz sunayi dene lagi, “Beta, kaho Bismillaah”.

     Asim sahib taRap kar uthe aur lapak kar palang par ja baithe. Yeh palang chaarpaiyon mein khaas tha ke is par na sirf qaaleen bichha tha balke us par safed chaadar aur ek munaqqash takiya bhi tha. Is par muhalle ke muazziz tareen log tashreef farma the; chairman sahib aur unke ek dost. Yeh palang aisi jagh paRa tha ke baahar se aane wale saare mehman is ke paas se guzar kar baaqi ki chaarpayion par ja ja kar baithte rahe hatta ke aakhir mein yeh donon muazizeen aaye aur inhen ghar ke logon ne basad israr yahan baithne ko kaha. Sab mehman to apni inkisari aur apni auqaat ke mutabiq is palang ke pas se aise guzre jaise unhen is se koi matlab nahin. Han albatta Asim sahib lamha bar ko yahan thitke the lekin jab kisi ne israr nahin kiya to age baDh gaye aur ek chaarpayi ke paynti patti par tik gaye. Sara waqt who kuDhte rahe ke in logon ne ham ko wahan kyon nahin bithaya. Isi palang ke muttasil, dalaan ke saath ek chobi takht tha jis par chaandni bichhi hui thi aur gaao takiye ke saath 5 sala Pappu Mian aur unke saamne maulvi sahib baithe the. Lambe se dalaan ke har dar mein pardaa paRa tha aur parde ke peeche se aurton ki kaRaon kaRaon awazen aa rahi thiN. Kisi ne unko bhi chup rahne ko kah diya.

Asim sahib jate hi palang par pair utha kar baith gaye aur papu ko mukhatib kiya, “beta, jaisa maulvi sahib kahein, waisa kaho, bismillah.”

Khamoshi.

“Are dekho agar tum nahin kaho ge to bahot gaRbaR hojaye gi”, unhun ne ghaaleban khaane mein der hone ki taraf ishaara kiya.

Khamoshi.

Maulvi sahib ne Asim sahib ki taraf khuch is tarah dekha k jaise kah rahe hon: aap beech mein na bolein. Aur Pappu se mukhaatib hue, “ Bis”

“Bis”

“Mil”

“mil”

“laah”

“laah”

Mubarak ho mubarak ho, charoN taraf se awaaz aayi. Sab ne baari baari uth kar Pappu Mian ke sar par hath phera aur salaami di. Aana, do ane, rupya, aath ane. Chairman sahib ne das rupaye ka note pesh kiya to Asim sahib ne apni duanni wapas rakh li aur andar ki jeb se rupaye ka note nikala. Dil mein socha, palang par baithna bhaari paR gaya. Saara hisaab gad bad ho gaya.

Aurton ki kaRaon kaRaon awaazein phir se aane lagin aur log bhi baaten karne lage. Laala ne Pappu Mian ko god mein bhar kar utha liya. Sehre ki lateN unke sar ke donon taraf latakne lagin. Palang par sarhane unke liye jagah banaayi gayi. Asim sahib sarak kar paynti par tik gaye aur apni tangeN latka deeN. Achaanak woh uthe aur Pappu ke sar pe hath pherte hue apni pahli wali jagh ki taraf jaane lage. Itne mein khaane ka aelaan hua to woh ulte phir gaye aur saf par baithne wale pahle aadmi kahlaye.

Safed chaadar ki saf ke do ruya baithe aadmion ke darmian se ek silapchi guzaari gayi jismen sab ne haath dhoye. Kisi ne donon haath to kisi ne ek haath hi dhoya. Kisi ne daahine haath ki ungliyan hi bhigo leeN. Ek aadmi lote se pani dalta jata to doosra peeche peeche taulia latkaye latkaye chalta aur log apne munh ke samne latke taulia se hath ponchhte jaate. Asim sahib ki taraf sab se akhir mein jab silapchhi pahonchi to woh paani se bhar chuki thi aur taulia geeli thi. Intezar ke bad jab khali silapchi aayi to unhoN ne ungliyan hi bhigoyiN aur taulia ko chhoR diya key yeh gaR baR ho gayi hai.

Khana baraabar waale ghar mein degoN mein pakaya gaya tha. Mohalle ke naayi jinheN sab izzat se khalifa ji kahte the bawarchi ka kaam bhi karte the. Unki hidaayat mein baaqi ghar ke log mil jul kar khaana tayyar kar lete. DonoN gharon ke darmian wali deewar mein ek khirki thi. Us ke dono taraf aadmion ki Qataar khaRi ho gayi aur deg se saf tak haatho haat qaab aur rakaab aane lage. Qourma, Pulao aur tazi tandoori roti ki khushbooyein saare meiN phail gayeeN. Jin ko pahli saf meiN jagh nahin mili woh apni jagh par baithe is khushboo mein nahaate rahe aur apni baari ka intezar karte rahe.

Chairman sahib ko palang par aur maulvi sahib ko takht par khana pesh kiya gaya. Maulvi sahib ke baraabar meiN ek tashtari mein unka naya joRa rakha tha jis ki tahoN se paanch rupaye ka note bhi jhaank raha tha.

AurtoN ke liye dalaan mein hi saf bichha di gayi thi.

Pappu Mian apna sehra takiye par patakh kar kab ke ja chu ke the aur bachchoN mein khel rahe the.

Ek bare se tub mein paani bhara tha jis mein baraf ke bare bare tukre tair rahe the. Thanda paani jagoN mein bhar kar saf par waqfe waqfe se rakha tha aur us ke saath hi katore the. Meethe mein feerini mitti ki tashtarion mein taqseem hui jise unglion se khaya gaya.

Ek taraf Abba Mian baithe huqqa pi rahe the. Jane se pahle Asim sahib Abba Mian se milna nahin bhoole. Bole, “Shukr hai Allah ka taqreeb e Bismillah ahsan tareeqe se tamam hui aur koi gaR baR nahiN hui”. Unhun ne huqqe ki nai munh se nikaali aur kaha,”GaRbaR sahib gaRbaR kya hona thi. Tashreef lane ka shukria.” Asim sahib baahar ki taraf lapke.

 
8 Comments

Posted by on September 23, 2013 in adab and literature, LIFE'S GREAT MOMENTS

 

Tags: , , , , , , , , , , , , , ,