RSS

GHALIB KI TASHREEH

08 May

 

 

ghalib

ghalib

 

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصا ل یار ہوتا 

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا 


آ ہی جاتا وہ راہ پر غالب 

کوئی دن اور بھی جئے  ہوتے 


 خوں ہو کہ جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ 

رہنے دے مجھے یاں کہ ابھی کام بہت  ہے 


غالب نے متعدد جگہ اپنے ہی اشعار کی اشعار سے تشریح فرمایی ہے یہ ایک مثال ہے. دوستوں کے لئے.  

1. yeh nah thi hamari qismat k wisal e yaar hota

agar aur jeete rahte yahi intezaar hota

(It wasn’t my lot to have met my beloved

Had I lived a little longer, still it would be just waiting only)

2. Aa hi jata woh raah par Ghalib

koi din aur bhi jiye hote

(I am sure my beloved would’ve accepted me only if I had lived a little longer)

3. khooN ho k jigar aankh se tapka nahiN ae marg

rahne de mujhe yaN k abhi kaam bahot hai.

(I am doing my best to entice her but) Yet in the effort my eyes have yet to shed red, O death, kindly leave me here a bit more as I have a lot to accomplish)

This is for my friends. Ghalib has given tashreeh (explanation) of his couplets in his own other couplets.

Advertisements
 
9 Comments

Posted by on May 8, 2013 in Ghalib ki Shan meiN

 

Tags: , , ,

9 responses to “GHALIB KI TASHREEH

  1. MASOOD

    May 8, 2013 at 2:51 pm

    Shakil Bhai bahut achchay.

     
    • shakilakhtar

      May 8, 2013 at 3:49 pm

      Masood bhai aap ka bahot shukria pazeerai ka. yeh hi post ham ne aap ke blog par bhi dali hai aaj hi. dekhiye ga.

       
  2. Rafiullah Mian

    May 8, 2013 at 7:27 pm

    واہ، شکیل صاحب، آپ کی ایسی نکتہ آفرینی دل کو بہت بھاتی ہے، اور یقین جانیں آپ کا یہ بلاگ تو غالب کے اشعار اور ان کی تشریحات سے جگمگاتا ہے
    لیکن آپ نے جو تین مندرجہ بالا اشعار دیے ہیں، ان میں پہلے دو اشعار ایک دوسرے کی ضد معلوم ہوتے ہیں
    پہلے شعر میں کہہ رہے ہیں کہ چاہے جتنی بھی عمر جیتے رہتے، وصال یار تو قسمت ہی میں نہ تھا، جب کہ دوسرے میں کہتے ہیں کہ نہیں، شاید وہ راہ پر آہی جاتا، اب آپ ہی کہیں، یہ ضدین ہیں کہ نہیں
    تیسرے شعر پر وہ لازول شعر یاد آرہا ہے
    رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل — جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
    لیکن یہ شعر — خوں ہو کہ جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ — دیکھیں تو یہ دوسرے شعر کی ضد ہے… کیوں کہ اس میں پھر وہی اظہار ہے کہ ابھی تو وصال یار کے انتظار میں اپنا جگر پگھلاکر، خون بناکر، آنکھوں کے راستے بہانا باقی ہے، اور اس یقین کے ساتھ یہ کہہ رہے ہیں کہ اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی یار اپنی راہ پر آنے والا نہیں ہے
    دیکھیں، آپ کی وجہ سے مجھے بھی ان اشعار پر غور کرنے کا موقع ملا، ورنہ صبح شام کے ہنگاموں میں اب اتنی فرصت کہاں
    ممنون ہوں جناب کا

     
  3. shakilakhtar

    May 9, 2013 at 1:26 pm

    Dear Rafi sahab, for the benefit of my non-Urdu friends I will reply in English first.
    You have found the three shers(couplets) above as contradictory as against my contention that they are dealing with the same (similar) theme.
    First of all please note that they all have one thing in common– the time is that of his near end of life. You say the second couplet is opposite the first. And the third is opposite the third. Here unwittingly, sir, you have accepted that at least the first and the last are saying the same thing, same as I am trying to say. Ghalib is actually chasing the rendezvous with his beloved like a mirage in all these couplets and seems to be so desperate that at an other place he is even (ostensibly) prepared to resort to audacious and unorthodox methods.:
    کوئی دن گر زندگانی اور ہے
    اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
    koi din zindagani aur hai
    apne ji mein ham ne Thani aur hai.
    May Allah SWT bless you.

    رفیع صاحب آپ نے کیا خوب سلسلہ شروع کیا ہے ہم کو معلوم ہے آپ بھی ہماری طرح غالب کے پرستار ہیں
    آپ کے تبصرے پر ہمارے دل و دماغ نے بیکوقت مختلف اثر قبول کیا ہے- دل کا خیال ہے کہ اتنی خوبصورت تحریر کو خوشنودی کی خاطر قبول کر لو- حکمت کا تقاضا ہے کہ آپ کی اجازت سے ادب کے ساتھ اختلاف کی جسارت کی جائے-
    آپ نے فرمایا ہے دوسسرا شعر پہلے والے کی ضد ہے اور تیسرا دوسرے وال
    ے کی ضد ہے- اس طرح حضور پہلا اور تیسرا تو مساوی ہو گئے- یہ ہی بات ہم کر رہے ہیں – ویسے ایک چیز جو تینوں میں مشترک ہے وو ہے وقت مرگ – ہر ایک شعر میں غالب اپنے محبوب سے وصا ل کو تلا ش کر رہے ہیں اور وہ ہے کہ مایوسی اور ناکامی دے کر سراب کی مانند پہلو بچا جاتا ہے- دوسرے شعر میں بیشک فرماتے ہیں “آ ہی جاتا وہ راہ پر ” لیکن اس میں بھی تیقں کے بجایے تشکیک کا عنصر غالب ہے-
    غالب وصل کے لئے اتنے اتاولے ہو رہے ہیں کہ ایک جگہ فرماتے ہیں
    کوئی دن گر زندگانی اور ہے
    اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے

    یہا ں بھی وقت مرگ ہے اور کہتے ہے کا ش ہم کو چند روز کی زندگی اور مل جاتی کیوں کہ ہم نے اب کے ٹھان لیا ہے کہ ( اس سے خود بڑھ کے اور ضروری ہوا تو زور زبر دستی سے وصل حاصل کروں گا)
    الله آپ کو خوش رکھے-

     
  4. Rafiullah Mian

    May 15, 2013 at 10:14 pm

    ارے صاحب، آپ کی اتنی خوبصورت گفتگو، اور اس پر آپ نے ناحق ‘اختلاف کی جسارت’ جیسے الفاظ سے کام لیا.. آپ نے تو میرے سلسلہ کلام ہی کو آگے بڑھایا ہے اور کسی خوبصورت کے ساتھ، کہ مجھے تو پڑھ کر اور مزا آیا.. اور اشعار کا نیا پہلو بھی کھلا.. لہٰذا شکریہ تو آپ کو قبول کرنا ہی پڑے گا.. دوسرے شعر میں آپ نے جس تشکیک کو دریافت کیا ہے، میں اس سے سو فیصد متفق ہوں.. یہ بڑا باریک نکتہ ہے ..
    دراصل، میں جس نکتے کی وجہ سے ضدین کی طرف متوجہ ہوا تھا وہ آپ کا عنوان ہے، یعنی غالب نے اپنے ہی اشعار سے اپنے دیگر اشعار کی تشریح کی
    اب اس نکتے کو مدنظر رکھا جائے تو میرے خیال میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ

    خوں ہو کہ جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ
    رہنے دے مجھے یاں کہ ابھی کام بہت ہے

    اس شعر میں جس ‘کام’ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہ کیا ہے، اس کا جواب یا تشریح ہمیں اس شعر میں مل سکتی ہے

    یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصا ل یار ہوتا
    اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
    یعنی انتظار …

    آپ کا کیا خیال ہے؟

     
    • shakilakhtar

      May 17, 2013 at 10:10 am

      رفیع صاحب خوشی ہوی آپ نے ہماری گزارشات کو قابل ذکر سمجھا –
      ‘غالب کی تشریح’ یقینن اس پوسٹ کا عنوان پوری طرح سے موزوں نہیں ہے اور ہم اسے بدل بھی سکتے ہے لیکن اب دیر ہو گئی ہے- بہر حال آپ نے کام کا ذکر کیا ہے – کام تو ایک ہی ہوتا ہے ہر شاعر کو – آرزو اور انتظار-
      آپ کے ہی الفاظ ہیں
      مجھے تم سے محبت ہے
      لیکن زندگی حجابوں میں لپٹی ہے
      انہیں پلٹتے پلٹتے
      زندگی گزرجائے گی
      اور ہمارے قلوب
      جو جذبوں کی حرارت سے دھڑکتے ہیں
      اور ہزاروں میل دوری سے بھی
      ایک دوسرے سے مربوط رہتے ہیں
      پگھل کر خاک نشیں ہوجائیں گے
      اور ان میں دھڑکتے جذبے
      مٹی کو نم کرکے
      نمود کی کسی نئی تشریح کو جنم دیں گے

      یہاں آپ بھی کسی بھی اچّھے شاعر کی طرح اسی کشمکش میں مبتلا ہیں کہ زندگی گزر جاےگی ملاپ نہ ہو گا-
      بہادر شاہ ظفر نے اسی بات کو نہایت آسان زبان میں کہا ہے
      عمر دراز مانگ کے لا یے تھے چار دن
      دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

      یہاں بھی غالب کی طرح ایک ایسی کیفیت کا رونا ہے جو اردو شاعری میں آفاقیت کا درجہ رکھتی ہے اور وہ ہے آرزو اور مایوسی –

       
  5. Rafiullah Mian

    May 17, 2013 at 6:48 pm

    واہ، آپ نے تو مجھے بھی درمیان میں ‘گھسیٹ’ لیا . بات غالب چچا کی ہورہی تھی اور تان مجھ ناچیز پر ٹوٹی
    :p
    آپ کی گزارشات سے صد فی صد متفق ہوں
    آپ کی اس پوسٹ پر مجھے واقعی گفتگو کا مزا آیا — تعریفی کلمات تو ہم بانٹتے ہی ہیں، لیکن اس قسم کی دل چسپ گفتگو کبھی کبھی ہوتی ہے

     
  6. Sharmishtha

    May 24, 2013 at 7:48 pm

    amazing trio. thanks for sharing!

     
    • shakilakhtar

      May 24, 2013 at 8:44 pm

      Thanks. I translated for you and few others specially. I hope you could enjoy the discussion 🙂

       

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: